.

’’ایران دہشت گردی کاسرکردہ سرپرست ملک ، داعش امریکاکے لیےبدستورخطرہ ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کا سرکردہ سرپرست ملک ہے اور واشنگٹن مزید حکومتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔

انسداد دہشت گردی بیوروکے قائم مقام پرنسپل ڈپٹی کوآرڈی نیٹرکرس لینڈبرگ نے کہا کہ داعش اب بھی ترقی کررہی ہے اورامریکاکے لیے ایک بڑاخطرہ بنی ہوئی ہے۔

لینڈبرگ نے انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران میں قانون سازوں کو بتایا کہ عراق اورشام میں داعش اپنے زیرقبضہ علاقوں سے تومحروم ہوچکی ہے لیکن کے باوجود اس کی عالمی موجودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ امریکا ،اس کے اتحادیوں اور بیرون ملک مفادات کے لیے مستقل اوربڑا خطرہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ داعش، القاعدہ اور ان سے وابستہ افراد سخت گیراور پرعزم ثابت ہوئے ہیں، باوجود اس کے کہ ہم نے امریکی سرزمین کو براہ راست خطرے میں ڈالنے کی ان کی صلاحیت کے خاتمے میں اہم پیش رفت کی ہے۔

متعدد قانون سازوں نے ایران اوراس کے آلہ کاروں کا معاملہ دنیا بھرمیں اٹھانے پر زوردیا ہے۔

لینڈبرگ نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی بیورونے حزب اللہ کے خلاف سفارتی مہم کی قیادت کی ہے اورحکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس گروہ کو مکمل طور پر دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرنے اور اپنے ممالک میں اس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوششیں نتیجہ خیزثابت ہو رہی ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں حالیہ برسوں میں یورپ، جنوبی اور وسطی امریکا کے 14ممالک کا حوالہ دیا ہے جنھوں نے اپنے ہاں حزب اللہ کے کام کرنے پرپابندی عاید کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جدیدترین ٹیکنالوجی مہیا کرنےسمیت اپنے آلہ کاروں کی مالی معاونت کررہا ہے ،ہتھیارمہیا کررہا ہے اور خطے بھر میں حملوں کو ممکن بنا رہا ہے۔

لینڈبرگ نے کہا کہ شام، عراق اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ دیگرگروہ مشرق اوسط اور دنیا میں خطرناک اور تخریبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔