.

انڈیا میں گاؤں کی خواتین نے شراب کی دکان پر دھاوا بول دیا:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ریاست کرناٹک کے ایک دور دراز گاؤں میں شراب کی دکان کھولنے کا فیصلہ اس کے مالکان کو مہنگا پڑ گیا۔ گاؤں کی کوئی 50 سے زاید خواتین نے مسلا پور گاؤں میں شراب کی نئی کھولی گئی دکان پر حملہ کرکے اس میں توڑپھوڑ کی اور دکان کو بند کردیا۔

خواتین نے شراب سٹور کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس طرح کے کسی دوسرے سٹور کو کھولنے کی کوشش کی گئی تو وہ اسے بھی اسی طرح کے انجام سے دوچار کریں گی۔

یہ واقعہ ہفتے کو ریاست کرناٹک کے چکمگلور ضلع کے مسلاپورا گاؤں میں پیش آیا۔ پہلاموقع نہیں۔ اس گاؤں کی خواتین نے پہلے بھی دو بار گاؤں میں شراب کی دکان کھولنے کی مخالفت کی تھی لیکن اس بار انہوں نے پرتشدد قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

اس حوالے سے سوشل میڈٰیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں گاؤں کی خواتین کو دکان کی توڑپھوڑ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں بار بار خبردار کر چکی تھیں کہ کوئی بھی اپنے شوہر کے نشے کے خوف سے اپنے گاؤں میں شراب کی دکان کھولنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے ابتدائی طور پر اسٹور کے ذمہ داروں سے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور جب وہ نہ مانے تو انھوں نے دھاوا بول دیا اور میز، کرسیاں اور اندرونی سجاوٹ کی توڑپھوڑ کی۔

خواتین نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اس خوف سے کیا کہ ان کے شوہر شراب پینے پر اپنا پیسہ خرچ کریں گے اور اس طرح نشے کی وجہ سے ان کے خاندان تباہ ہو جائیں گے۔

جبکہ خواتین کے رویے کو شہر کے مکینوں نے سراہا۔ جنہوں نے اپنے خاندانوں کی حفاظت کے لیے ان کی ہمت کی تعریف کی۔

اس کے علاوہ ضلعی پولیس نے کیس کی تحقیقات شروع کی ہیں جس میں وضاحت کی گئی کہ سٹور پر دھاوا بولنے سے پہلے شراب کی بوتلیں منتقل کر دی گئی تھیں۔