.

سعودی عرب میں مشرقِ اوسط کے سب سے بڑے کارخانے میں سولرپینل کی تیاری کاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شمسی توانائی کی پلیٹوں (سولر پینلز)کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ یوں سولر پینل کی تیاری کے پہلے مرحلے کا آغاز مشرق اوسط اور شمالی افریقا کی سب سے بڑی سولر پینل فیکٹری میں کیا گیا ہے۔اس کا افتتاح تبوک کے صنعتی شہر میں کیا گیا ہے۔

صنعت اور معدنی وسائل کے نائب وزیر اسامہ بن عبدالعزیز الزامل نے سولر پینل فیکٹری کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ اس پلانٹ کا مقصد شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں اور صنعتی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والے نجی شعبے کے ساتھ انضمام کو فعال بنانا ہے تاکہ مملکت بھرمیں قابل تجدید اور پائیدار توانائی سے متعلق صنعتوں کی مدد کی جاسکے۔

الزامل نے وضاحت کی کہ خاص طور پر تبوک شہر میں ایسی فیکٹریوں کی موجودگی ایک اسٹریٹجک جہت رکھتی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق خاص طور پر نیوم اور بحیرہ احمر جیسے بڑے منصوبوں سے قربت کے ساتھ ان فیکٹریوں کو درکار مختلف ملازمتوں میں کام کرنے کے لیے اہل قومی انسانی وسائل کی دستیابی میں بھی مدد ملے گی۔

سولر پینل فیکٹری کا کل رقبہ 27 ہزار مربع میٹر سے زیادہ ہے۔اس کی پیداواری صلاحیت 1.2 گیگاواٹ ہے۔ یہ فیکٹری سولر پینلز کی تیاری میں مہارت رکھتی ہے۔اس میں 70 کروڑ ریال کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

یہ کارخانہ مملکت میں آٹومیشن کے شعبے میں جدید ترین فیکٹریوں میں سے ایک ہے جس میں پیداواری طریقہ کار کے لیے مشینوں پر انحصار کیا گیا ہے اور اس شعبے میں جدید ترین بین الاقوامی ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا جارہا ہے۔