.

فائزرکا امریکی حکومت سے 5.3ارب ڈالرمیں کووِڈ-19 کی اینٹی وائرل دوامہیا کرنے کامعاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دواساز فرم فائزرنے رواں سال سے اپنی کووڈ-19 کی اینٹی وائرل دوا کی ایک کروڑ خوراکیں مہیا کرنے کے لیےامریکی حکومت کے ساتھ پانچ ارب 29 کروڑ ڈالرمالیت کے ایک معاہدے پردست خط کیے ہیں۔

مُنھ کے ذریعے استعمال کی جانے والی یہ دوا کرونا وائرس کی وَبا کے خلاف جنگ میں ایک امید افزانیا ہتھیار ہو سکتی ہے، کیونکہ اسے گھر میں ابتدائی علاج کے طورپر لیا جا سکتاہے۔اس کے استعمال سے کووِڈ-19 کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد پرقابو پانے اور اموات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

فائزرنے منگل کو اس دوا پیکسلووِڈ کے امریکی حکومت سے اجازت نامہ کے حصول کے لیے درخواست دائر کی ہے۔اس نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ کے آخرتک اس دوا کے 180,000 علاج کورسزاور 2022 کے آخر تک کم سے کم پانچ کروڑکورسز تیار کرے گی۔

ریاست ہائے متحدہ امریکاکے محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے سیکرٹری ژاوئیربیسرا نے کہا کہ یہ امید افزا علاج کووِڈ-19 سے بیمار ہونے والے لوگوں کے لیے ایک اور زندگی بچانے والا آلہ ہے۔یہ اس وَبا سے نکلنے کے لیے ہمارے راستے کوتیزکرنے میں مددگارثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی دواسازکمپنی نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اس دوا کے استعمال سے شدید بیماری کے خطرے سے دوچاربالغوں کے اسپتال میں داخل ہونے یا موت کے امکان میں 89 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے آزمائشی جانچ کے نتائج سے پتاچلتا ہے کہ فائزرکی دوا مرک اینڈ کو کمپنی کی تیارکردہ گولی مولنوپیراویر کے مقابلے میں بہترنتائج کی حامل ہے۔اس دوا کے بارے میں گذشتہ ماہ کہا گیا تھا کہ وہ شدید بیماری کے زیادہ خطرے میں کووِڈ-19 سے متاثرہ مریضوں کے مرنے یا اسپتال میں داخل ہونے کے امکان کو نصف کردے گی۔

امریکی حکومت نے مرک کمپنی کی دوا کے کورسز کے لیے بھی 2.2 ارب ڈالر مالیت کے معاہدے پردست خط کیے ہیں۔