.

فلسطینی تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرنے کے الزام میں ہسپانوی خاتون کو سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ہسپانوی خاتون خوانا ریشماوی کو مجرم قرار دیتے ہوئے اسے "پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین" کو مالی اعانت فراہم کرنے کے جرم میں 13 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ تنظیم اسرائیلیوں پر ماضی میں حملوں میں قصور وار قرار دی جا چکی ہے۔

بدھ 17 نومبر کو عدالت نے اعلان کیا کہ تریسٹھ سالہ ریشماوی نے "پاپولر فرنٹ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے لیکن اس نے اپنے وکیل کے ذریعے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے گذشتہ ہفتے طے پانے والے درخواست کے معاہدے کے فریم ورک کو برقرار رکھا ہے جس میں ریشماوی کو 16,000 ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ ریشماوی کے وکیل ایویگڈور فیلڈمین نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ اپنی مؤکلہ کو دو ہفتوں کے اندر رہا کرا سکتے ہیں بہ شرطیکہ پیرول کمیٹی ان کی ایک تہائی سزا کم کرنے اور ان کی رہائی کے لیے تیار ہو۔

انھوں نے وضاحت کی وہ اپریل سے حراست میں ہے اور اگر پیرول کمیٹی اس کی سزا میں ایک تہائی کمی کر دے تو اسے دو ہفتوں کے اندر رہا کیا جا سکتا ہے۔

اعتراف اور درخواست

ریشماوی میڈرڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی ایک فلسطینی سے ہوئی اور وہ فلسطینی این جی او "ہیلتھ ورک کمیٹیز" میں کام کر رہی تھیں جس پر اسرائیل نے 2020 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے پرپابندی عاید کر دی تھی۔ اس تنظیم کو فلسطین پاپولرفرنٹ کی ایک ذیلی شاخ قرار دیاجاتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے پہلے کہا تھا کہ ریشماوی نے "پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے" میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا لیکن فیلڈمین نے اس کی تردید کی اور صحافیوں کو بتایا کہ ملزم نے پاپولر فرنٹ کے لیے فنڈز جمع نہیں کیے تھے۔ وہ فلسطین فریڈم ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ کام کر رہی تھیں اور اس کے لیے رقم لاتی تھیں۔

فیلڈمین نے مزید کہا کہ ہم نے ایک درخواست میں جرم قبول کرنے کا فیصلہ کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ نہیں جانتی تھی کہ پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین کو رقم منتقل کی جا رہی ہےلیکن اسے شبہ تھا کہ صحت کی تنظیم کا تعلق فرنٹ سے ہے۔