.
یمن اور حوثی

حوثی باغیوں کے فوجی کمانڈر صالح مسفر الشاعر پرامریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ نے کل جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اس نے حوثی ملیشیا کے فوجی کمانڈر صالح مسفر الشاعر پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ مسفر حوثیوں کے زیر تسلط فوجی لاجسٹک سپورٹ تنظیم کی قیادت کرتے ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ الشاعر کی نگرانی میں یمنی شہریوں کی ایک سو ملین ڈالر سے زاید مالیت کی املاک ضبط کی گئیں اور مذموم مقصد کے لیے بھتہ خوری، بلیک میلنگ سمیت متعدد غیر قانونی طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔

10 نومبر کو سلامتی کونسل کی پابندیوں کی ذمہ دار کمیٹی نے الشاعر کو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

حوثی ملیشیا کے دارالحکومت صنعا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ملیشیا نے اپنے رہ نماؤں کے فائدے کے لیے سیاسی مخالفین کے گھروں میں لوٹ مار کرنے، املاک ضبط کرنے کی نئی پالیسی شروع کی تھی۔

ان کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے جس کی آمدنی براہ راست ملیشیا کے رہنما عبدالملک الحوثی کے پاس جاتی ہے کے لیے میجر جنرل صالح مسفر الشاعر جیسے قابل اعتماد شخص کو مقرر کیا۔ کمانڈر مسفر "ابو یاسر" کی کنیت سے مشہور ہیں۔ انہوں نے دارالحکومت صنعاء اور ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں مخالفین کی املاک کو پر ہاتھ صاف کرنے کے لیے باقاعدہ اقتصادی باز قائم کیا۔

صالح مسفر الشاعر 40 حوثی دہشت گردوں کی فہرست میں 35 ویں نمبر پر ہے جو آئینی حکومت کے معاون عرب اتحاد کو بھی مطلوب ہے۔ اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مختص کیا گیا ہے۔

ملیشیا کے رہنما نے شاعر کو نام نہاد "عدالتی محافظ" کا کام سونپا گیا، جس کے مطابق اس نے حوثی ملیشیا کے مخالف سیاسی رہ نماؤں کے گھروں پر چھاپے مارنے، جائیدادیں ضبط کرنے، لوٹ مار کرنے اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ملیشیا مخالف 100 کمپنئوں کی املاک اور 1250 سے زیادہ جائیدادیں ضبط کیں جن کی مالیت ایک سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی یمن سے متعلق ماہرین کی رپورٹ میں حوثی ملیشیا فنڈز کی منتقلی میں ملوث ایک نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے جو ملیشیا کے مخالفین، سیاست دانوں،اراکین پارلیمنٹ تاجروں اور نجی کمپنیوں کی چوری کی گئی تھی رقم حوثی ملیشیا کو منتقل کرنے میں ملوث رہا ہے۔