.

فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے41 برس قبل شاہ خالد نے کیا اپیل کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 22 جمادی الثانی 1402 ہجری (1982ء) کو سرکاری اخبار ام القری میں اس وقت مملکت کے فرماں روا شاہ خالد بن عبدالعزیز کا ایک بیان شائع ہوا تھا۔ تقریبا 41 برس قبل اس بیان میں انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی اراضی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے واسطے ایک روز کام روک دیں۔

مذکورہ اخبار کے مطابق شاہ خالد نے اُس سال اسلامی سربراہ اجلاس کے اجلاس کے صدر ہونے کی حیثیت سے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ مقبوضہ اراضی کے اندر دہشت گرد صہیونی کارستانیوں پر روک لگانے کے لیے فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

شاہ خالد نے مسجد اقصی پر اسرائیلی دھاوے کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ سرکاری محکموں اور حکومتی اور نجی سیکٹروں کے کارکنان کو پورے ایک روز کام روک دینے کا موقع دیں۔ اس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی اراضی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار ہے۔

اس موقع پر سعودی عرب میں اُس وقت موجود فلسطینی کمیونٹی نے شاہ خالد کی اپیل کے لیے انتہائی پسندیدگی کا اظہار کرے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی فلسطینی عوام کے لیے مادی ، عسکری اور سیاسی حمایت پر مبنی موقف کے سلسلے میں مملکت کے قابل قدر مواقف کا بھی خیر مقدم کیا۔ اخبار کے مطابق شاہ خالد کی اس اپیل کا اجتماعی عملی جواب سامنے آیا اور حکومتی محکموں کے علاوہ سرکاری اور نجی سیکٹروں میں بھی اس پر عمومی عمل دیکھنے میں آیا۔