.

لائیڈ آسٹن کاامریکا کے مشرقِ اوسط میں سکیورٹی برقرار رکھنے کےعزم کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے روزمشرقِ اوسط میں اتحادیوں کو ایک مرتبہ پھر یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ چین کے مقابلے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے باوجود صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ خطے کی سکیورٹی کے لیے پرعزم ہے۔

خلیجی عرب ریاستوں نے حال ہی میں امریکا کے بالخصوص افغانستان سے انخلا کے بعد خطے میں صدربائیڈن کی عدم توجہ کے بارے میں غیریقینی صورت حال کااظہارکیا ہے۔اب وہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششوں پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔

خلیج کے دورے کے موقع پربحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ سکیورٹی کانفرنس میں لائیڈ آسٹن نے اپنی تقریرمیں خطے اورعالمی سطح پرپائی جانے والی اس تشویش کا اعتراف کیا کہ امریکا صرف چین کے چیلنج پرتوجہ مرکوزکررہا ہے۔

آسٹن نے کہا کہ مشرقِ اوسط میں سلامتی کے حوالے سے امریکاکاعزم پختہ ،مضبوط اور یقینی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ وہ 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بھی کام کررہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔اگرایران سنجیدگی سے مذاکرات پر آمادہ نہیں تو پھر ہم امریکاکومحفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اختیارات پرغورکریں گے۔

پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ امریکا جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے29 نومبر سے ویانا میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں نیک نیتی سے شرکت کرے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کے اقدامات حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں-بالخصوص ایران نے جوہری پروگرام میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

خلیجی ریاستیں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے سے نمٹنے کے لیے بھی ایک نئے معاہدے کا مطالبہ کررہی ہیں۔اگرچہ امریکی انتظامیہ نے مشرق اوسط سے توجہ ہٹاکربحرالکاہل کی طرف مرکوز کرنےکی کوشش کی ہے لیکن صدرجو بائیڈن نے اگست میں افغانستان میں طویل ترین امریکی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔

امریکا کے ایک سینیردفاعی عہدہ دار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آسٹن سے یہ توقع نہیں کی جارہی تھی کہ وہ اپنے دورے میں خطے میں نئے وعدے کریں گے۔

سعودی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے منامہ سیکورٹی فورم میں امریکا کی زبانی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ’’عملی اقدامات اتنے ہی اہم ہیں‘‘۔انھوں نے یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں کواسلحہ حاصل کرنے سے روکنے کی ضرورت پرزوردیا۔