.

کم کارڈیشین کے تعاون سے افغان خواتین کھلاڑیوں کی برطانیہ منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریئلٹی ٹی وی اسٹار کم کارڈیشین اور لیڈز یونائیٹڈ کی مالک آندریا ریڈریزانی نے افغان قومی فٹ بال ٹیم کی سابق کپتان خالدہ پوپل کی 130 افغان خواتین فٹبالرز اور ان کے اہل خانہ کو جمعرات کو پاکستان کے راستے افغانستان سے برطانیہ پہنچانے میں مدد کی ہے۔

امریکی فیشن ماڈل کم کرڈیشیئن نے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے افغان فٹ بال ٹیم کی تیس خواتین کھلاڑیوں کو فیملیز کے ہمراہ پاکستان سے لندن پہنچا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغان خواتین کی یوتھ ڈیویلپمنٹ فٹ بال ٹیم کی تیس خواتین کھلاڑیوں سمیت 130 افراد جمعرات کی صبح پاکستان سے لندن پہنچے ہیں۔

کم کارڈیشین
کم کارڈیشین

خواتین کھلاڑیوں کو ان کے خاندانوں کے ہمراہ لندن پہنچانے میں کم کرڈیشیئن کے علاوہ امریکی ریاست نیو یارک میں یہودیوں کے مذہبی پیشوا اور ایک برطانوی فٹ بال کلب نے مدد کی ہے۔

لندن پہنچنے پر تمام افغان مسافروں کو دس دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جس کے بعد وہ نئے شہر میں اپنی زندگی کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔

یوتھ ڈیویلپمنٹ فٹ بال ٹیم کے ممبران کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے جو طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

ٹیم نے امریکی سماجی گروپ زیڈیک ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست کی تھی۔ اس گروپ نے اس سے قبل کابل میں رہنے والے آخری یہودی کو افغانستان سے نکالنے میں بھی مدد کی تھی۔

زیڈیک ایسوسی ایشن کے بانی موشے مارگریٹن جو کم کرڈیشیئن کے ساتھ قانونی اصلاحات پر کام کر چکے ہیں نے فیشن ماڈل سے درخواست کی کہ وہ چارٹرڈ طیارے کے پیسے ادا کرنے میں مدد فراہم کریں۔

موشے مارگریٹن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’زوم کال کرنے کے ایک گھنٹے بعد مجھے میسج آیا کہ کم کرڈیشیئن پوری فلائٹ فنڈ کرنا چاہتی ہیں۔

افغان خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی سابق کیپٹن خالدہ پوپل نے لڑکیوں اور خواتین کے خطرے سے باہر نکلنے پر خوشی اور تسلی کا اظہار کیا۔

طالبان کےافغانستان پر قبضے کے بعد خالدہ پوپل نے خواتین ایتھلیٹ کو افغانستان سے بحفاظت نکالنے کی مہم بھی چلائی تھی۔