.

امریکاسال کے آخرتک عراق سے تمام لڑاکادستوں کو واپس بلالے گا:وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک عراق میں موجود تمام لڑاکافوجیوں کوواپس بلالیا جائے گا اوراس ضمن میں امریکا اپنے وعدے پرعمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔

لائیڈ آسٹن نے بحرین میں سالانہ منامہ سکیورٹی ڈائیلاگ کے موقع پرعراقی وزیردفاع جمعہ الجبوری سے ملاقات کی ہے اور ان سے عراق کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عراق میں امریکا کااشتراک عراقی سیکورٹی فورسز کے ساتھ انٹیلی جنس، مشورے اور معاونت پر مشتمل ہوگا۔

آسٹن نے اکتوبرمیں عراق میں عام انتخابات کے انعقاد پرجمعہ الجبوری کو مبارک باد دی اور رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرقاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے۔

قبل ازیں منامہ فورم میں لائیڈ آسٹن نے اپنی تقریرمیں مشرق اوسط میں اتحادیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ چین کے ساتھ کشیدگی پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باوجود امریکا خطے کی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے۔آسٹن نے واضح کیا کہ مشرق اوسط میں سلامتی کے حوالے سے امریکا کا عزم مضبوط اور یقینی ہے۔

خلیجی عرب ریاستوں نے حال ہی میں امریکا کے بالخصوص افغانستان سے انخلا کے بعد خطے میں صدربائیڈن کی عدم توجہ کے بارے میں غیریقینی رویے کااظہارکیا ہے۔اب وہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔

آسٹن کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جبکہ وہ 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بھی کام کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم جوہری مسئلے کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔اگرایران سنجیدگی سے مذاکرات پرآمادہ نہیں تو پھر ہم امریکاکومحفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اختیارات پرغورکریں گے۔

پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ امریکا جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے29 نومبر سے ویانا میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں نیک نیتی سے شرکت کرے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کے اقدامات حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں-بالخصوص ایران نے جوہری پروگرام میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

خلیجی ریاستیں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے سے نمٹنے کے لیے بھی ایک نئے معاہدے کا مطالبہ کررہی ہیں۔اگرچہ امریکی انتظامیہ نے مشرق اوسط سے توجہ ہٹاکربحرالکاہل کی طرف مرکوز کرنےکی کوشش کی ہے لیکن صدرجو بائیڈن نے اگست میں افغانستان میں ایک طویل امریکی جنگ کا خاتمہ کیا تھا اور وہاں سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔

سعودی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے منامہ سیکورٹی فورم میں امریکا کی زبانی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس ے ساتھ’’عملی اقدامات اتنے ہی اہم ہیں‘‘۔انھوں نے یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں کواسلحہ کے حصول سے روکنے کی ضرورت پرزوردیا۔