.

سوڈان میں سیاسی سمجھوتے اور وزیر اعظم حمدوک کی جلد واپسی کی نوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں ہفتے کی شب فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور گزشتہ ماہ تحلیل کی گئی حکومت کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے درمیان ملاقات ہوئی۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے آج اتوار کے روز بتایا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں سیاسی موافقت کا اعلان متوقع ہے۔ اس سے قبل دونوں شخصیات کے بیچ متعدد نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

یہ برطرف وزیر اعظم حمدوک کو نظر بند کیے جانے کے بعد البرہان کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات تھی۔

معلومات کے مطابق عامی شخصیات نے دونوں شخصیات کے بیچ ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملاقات میں حمدوک تمام سیاسی گرفتار شدگان کی رہائی پر مُصر رہے۔ اس معاملے پر موافقت ہو گئی ہے۔

مزید یہ کہ برطرف وزیر اعظم نے شرط رکھی ہے کہ ان کا تقرر مسلح افواج کے سربراہ کی جانب سے عمل میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح انہوں نے ٹیکنوکریٹس کی حکومت تشکیل دینے کے موقف پر قائم رہنے کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 25 اکتوبر (2021ء) کو سوڈانی فوج کے سربراہ نے حکومت اور سابق خود مختار کونسل کو تحلیل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سوڈان کو دوبراہ جمہوریت کے راستے پر لانے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

گذشتہ روز امریکا نے ایک بار پھر سوڈان میں فوجی حکام سے مطالبہ کیا کہ عبداللہ حمدوک کی حکومت بحال کی جائے اور مظاہرین کو آزادی اظہار کا حق دیتے ہوئے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ امریکا اور افریقی یونین نے زور دیا کہ فوج کے استثنائی اقدامات پر احتجاج کرنے والے عوام کے خلاف "ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال" نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ افریقی یونین نے 25 اکتوبر کے اقدام کے بعد سوڈان کی رکنیت معطل کر دی تھی۔ یونین نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں سوڈان میں ملکی قیادت پر زور دیا کہ آئینی نظام کو بحال کیا جائے اور اقتدار کی جمہوری منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔