.
افغانستان وطالبان

افغانستان میں سڑکوں پر افیون کی فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افیون کی تجارت کئی برسوں سے افغانستان میں دولت کے حصول کا ایک بنیادی راستہ ہے۔ ملک 1990ء کی دہائی کے عرصے میں اس منشیات کی ہزاروں ٹن پیداوار ہوئی۔

اگست میں طالبان تحریک کی جانب سے ملک کا اقتدار سنبھال لیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایسا نظر آتا ہے کہ طالبان نے افیون کی تجارت کے موضوع سے نظریں پھیل لی ہیں گویا کہ اس تجارت کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے!

افغان صوبے تخار کے شہر تالقان میں ایک نیا بازار دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں درجنوں بیوپاری مختلف درجوں میں افیون کی تجارت کرتے ہیں۔ یہ بات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کے روز اپنی رپورٹ میں بتائی۔

یہ بازار گنجان آباد رہتا ہے اور اس کے اطراف راستوں پر بھی اس نشہ آور مواد (افیون) سے بھری پلاسٹک کی تھیلیاں پیش کی جا رہی ہوتی ہیں۔

اس کے متوازی طالبان کے گڑھ قندھار صوبے میں کسانوں نے اپنی زمین پر خشخاش کی کاشت شروع کر دی ہے۔ پہلے یہاں گندم اور مکئی کی کاشت ہوتی تھی۔

طالبان نے اگست کے اواخر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں منشیات کی پیداوار ختم کر دیں گے۔ اس پیداوار کی مالیت کا اندازہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے۔ دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کا 85% حصہ افغانستان میں کاشت ہوتا ہے۔

دوسری جانب طالبان وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے اپنے بیان میں کہا کہ کابل میں طالبان حکام اب بھی ملک میں منشیات کی تجارت کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

گذشتہ برس افغانستان میں خشخاش کی پیداوار کرنے والی اراضی کا رقبہ 37% اضافے کے ساتھ 554 ایکڑ تک پہنچ گیا۔ یہ بات منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کی رپورٹ میں بتائی گئی۔