.

افغانستان میں فعال داعش کے چارکارندوں پرامریکا کی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے پیر کے روزافغانستان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش (خراسان)کے ایک مالی معاون پرنئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے اوراس پر ترکی سے رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا کاروبارچلانے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عصمت اللہ خلوزئی داعش کابین الاقوامی مالیاتی سہولت کاررہاہے۔ اس نے داعش کی اعلیٰ قیادت کے لیے مشن انجام دیے ہیں۔

محکمہ خزانہ کا کہنا ہےکہ خلوزئی نے گذشتہ دو سال کے دوران میں داعش کی دہشت گردی اور مسلح کارروائیوں کی مالی معاونت کے لیے فنڈزمنتقل کیے تھے اور اس مقصد کے لیے وہ ترکی میں حوالہ کا کاروبارچلا رہا تھا۔

اس سے قبل خلوزئی نے مبیّنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں قائم ایک فنانسنگ اسکیم چلائی تھی۔اس کے تحت داعش کے تعاون سے رقوم اکٹھی کرنے کی غرض سے بین الاقوامی مقامات پر دوبارہ فروخت کے لیے پُرتعیش اشیاء بھیجی جاتی تھیں۔

اس پرانسانی اسمگلنگ اورایسے غیرملکی جنگجوؤں کی نقل وحرکت میں سہولت مہیا کرنے کا بھی الزام ہے جو افغانستان اور خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینا چاہتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ڈائریکٹراینڈریا گاکی کا کہنا ہے کہ ’’بائیڈن انتظامیہ دنیا بھرمیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ آج داعش کے سہولت کار پر پابندی امریکا کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ داعش اور اس کے اراکین کو افغانستان اور اس سے باہردہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا استحصال کرنے سے روک دے گا۔‘‘

مزید برآں محکمہ خارجہ نے داعش کے تین اور جنگجوؤں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔اس نے ثناءاللہ غفاری، سلطان عزیزاعظم اور مولوی رجب کو خصوصی طور پرنامزد عالمی دہشت گردوں (ایس ڈی جی ٹی) کی فہرست میں شامل کر لیاہے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام اورانٹیلی جنس ذرائع خبردار کرچکے ہیں کہ داعش اور القاعدہ اگلے چھے سے بارہ ماہ کے دوران میں امریکا کی سرزمین پرحملہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے خبردارکیا تھا کہ داعش قریباً ہر افغان صوبے میں موجود ہے۔