.

کینیا:بی بی سی عملہ کی خاتون رکن کے پُراسرارقتل کی پولیس تحقیقات کاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پولیس نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے عملہ کی ایک خاتون رکن کے پُراسرارقتل کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

شہر کے پولیس سربراہ نے بتایا کہ بین الاقوامی خیراتی ادارے بی بی سی میڈیا ایکشن کے لیے کام کرنے والی برطانوی شہری کیٹ میچل نیروبی میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے میں گذشتہ جمعہ کو مردہ پائی گئی تھیں اور ان کی لاش ہوٹل کا ہنگامی الارم فعال ہونے کے فوراً بعد ملی تھی۔

ہوٹل کی آٹھویں منزل پر واقع ان کے کمرے کی کھڑکی ٹوٹی ہوئی تھی اور ہوٹل کے باہر زمین پر ایک شخص کی لاش ملی تھی۔وہ موت سے پہلے مبیّنہ طورپراس شخص کے ساتھ تھیں۔

نیروبی پولیس کے سربراہ آگسٹین تھمبی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم ان دونوں کی ہلاکتوں کے حالات وواقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن اب تک یہ ظاہر ہوا ہے کہ اس شخص نے میچل کو قتل کرنے کے بعد کھڑکی سے چھلانگ لگا دی تھی۔

ان کاکہنا تھا کہ ہمیں ابھی تک اس شخص کا مقصد معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے برطانوی شہری کو کیوں قتل کیا اور اپنی جان کیوں لی ہے؟اب تفتیش کاراس واقعہ سے متعلق مزید تفصیل کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میچل گذشتہ14 سال سے اس تنظیم کے ساتھ کام کررہی تھیں۔حال ہی میں وہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں اس کے ایک سینئر پروجیکٹ منیجر کے طور پرتعینات تھیں۔

بی بی سی میڈیا ایکشن کی چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) کیرولین نرسی کا کہنا ہے کہ ’’ہم سب قتل کی اس خوفناک خبر سے حیران اور خوفزدہ ہیں‘‘۔

ان کا کہناہے کہ کیٹ عملہ کی ایک بہت پسندیدہ اور مقبول رکن تھی ... وہ ہماری پوری تنظیم میں اور خاص طور پر ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، زیمبیا اور لندن میں کام کرنے والی ہماری ٹیموں میں مشہورتھیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم ان کے اہل خانہ اور دنیا بھرمیں ان کے بہت سے دوستوں سے گہری تعزیت کا اظہارکرتے ہیں۔

عطیہ دہندگان کی مالی اعانت سے چلنے والا یہ خیراتی ادارہ دنیا بھرمیں پسماندہ گروہوں کی مدد کے لیے میڈیا اور کمیونٹی کو استعمال کرنے پر توجہ مرکوزکرتا ہے۔