.
جوہری ایران

اسرائیل کا ایران پرچاہ بہار اور جزیرہ قشم کے فوجی اڈوں سے حملوں کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے منگل کے روز ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے چاہ بہار اور قشم جزیرہ کے اڈوں سے بحری اہداف پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ جگہیں فوجی ڈرونز کو ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔

یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے ریچمن یونیورسٹی میں منعقدہ ایک سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وہ ایران کے ان مبینہ حملوں کا عوامی سطح پر پہلی بار اعتراف کررہے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے منگل کو کہا تھا کہ پچھلی دہائی سے ایران نے اسرائیل کو ملیشیاؤں اور میزائلوں سے گھیر رکھا ہے۔

بینیٹ نے مزید کہا کہ ’’ایران کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون لک تنظیم ’قدس فورس‘ کے ذریعے بھیجے جانے والے افراد کے پیچھے جانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہمیں پتہ پر پہنچنا ہے۔"

اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ نے ہرزلیہ کانفرنس میں اعلان کیا کہ اسرائیل کو کسی بھی صورت حال اور کسی بھی سیاسی حالات میں عمل کی آزادی اور عمل کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دُنیا ایران کو برداشت نہیں کرے گی۔ ہمیں ایک پیچیدہ دور کا سامنا ہے اور اچھے لوگوں کے ساتھ اختلافات بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر ایٹمی معاہدے میں واپسی ہوتی ہے تو یقیناً اسرائیل فریق نہیں ہوگا اور معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔ ہم سنہ 2015ء کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کےدرمیان طے پائے معاہدے کے بعد کی گئی غلطی کو نہیں دہرائیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی حکومت زوال کے عمل سے گزر رہی ہےاور وہ وحشیانہ طاقت اور دھمکی کے ذریعے حکمرانی کر رہی ہے۔

انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہمیں امید ہے کہ دنیا تہران کے خلاف اپنی کوشش میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی لیکن اگر وہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرے تو بھی ہم ہچکچانے والے نہیں ہیں۔