.

اسرائیل کا باردوی جیکٹیں تیار کرنے والے حماس کے 50 کارکنوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ روز آج پیر کو اسرائیل نے فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے درجنوں ارکان کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار حماس کارکن الگ الگ حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مغربی کنارے میں حماس کے 50 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے رقوم، ہتھیار اور دھماکا خیز مواد ضبط کیا گیا۔ یہ عناصر چار دھماکا خیز بیلٹ بنانے کی تیاری کر رہے تھے۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹس میں کہا کہ داخلی سلامتی کے ادارے’شن بیٹ‘ سیکیورٹی سروس کے ذریعہ گرفتار ہونے والے کارکنوں کی قیادت حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کر رہے تھے۔

مشرقی یروشلم آپریشن کے بعد

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ عناصر اسرائیل کے اندر بم دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوجی
اسرائیلی فوجی

یہ اقدامات مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اتوار کے روز پرانے شہر میں حماس کے ایک عنصر کی طرف سے ایک غیر معمولی مسلح حملے کے بعد سامنے آئے۔

دریں اثنا اسرائیل کے عوامی سلامتی کے وزیر عمر بار لیو نے وضاحت کی کہ "حماس کے اراکین میں سے ایک" یروشلم کے شعفات محلے میں رہتا ہے اور اس کی عمر 42 سال ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور حماس کے سیاسی ونگ کا رکن تھا جو کہ عسکریت پسند نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس موجود تصاویر کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اس نے بڑا گلابیہ پہن رکھا تھا یا اپنے ہتھیار کو چھپانے کے لیے ایک انتہا پسند یہودی کا بھیس بدل رکھا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اہلیہ تین دن پہلے ملک چھوڑ کر چلی گئی تھیں اور ان کا بیٹا بھی بیرون ملک ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔