.

اقوام متحدہ کی افغانستان میں امدادی سرگرمیوں کے لیے اپیل پر60 کروڑ ڈالر جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی افغانستان میں خوراک اور دیگرانسانی امداد مہیا کرنے کے لیے اپیل پر60 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم اکٹھی ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان انسانی تباہی کے دہانے پر ہے اور اس کی نصف سے زیادہ آبادی کو آنے والے موسم سرما کے دوران میں کھانے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہ ہونے کا خطرہ ہے۔

اگست میں طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ نے ستمبر میں جنیوا میں ایک وزارتی اجلاس منعقد کیا تھا۔اس میں بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے فوری مدد مہیا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے او سی ایچ اے کے ترجمان جینزلارکی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اب ہم یہ اطلاع دے سکتے ہیں کہ اپیل پر100 فی صد مالی امداد مہیا ہوگئی ہے۔

افغانستان کو اہم عطیہ دہندگان میں امریکا، یورپی ممالک اور جاپان شامل ہیں۔انھوں نے مجموعی طور پر60 کروڑ60 لاکھ ڈالر (539 ملین یورو) مہیا کیے ہیں اور اس طرف انھوں نےعالمی ادارے کے امدادی ہدف کوپورا کرنے میں مدد دی ہے۔

اس رقم میں سے افغانستان میں سب سے زیادہ محروم ایک کروڑدس لاکھ افراد کو امدادی اشیاء مہیا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

لارکی نے بتایا کہ یکم ستمبر سے 15 نومبر تک اقوام متحدہ اور اس کےغیر سرکاری تنظیمی شراکت داروں نے افغانستان میں 72 لاکھ افراد کو امدادی خوراک مہیا کی ہے اورقریباً 900,000 افراد کو صحت کی دیکھ بھال اور علاج معالجے کی سہولت بھی مہیا کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ قریباً دولاکھ افراد کو پانی مہیا کرنے میں مدد دی گئی ہے اور شدید غذائی قلت کا شکارپانچ سال سے کم عمرکے ایک لاکھ 78 ہزار بچوں کاعلاج کیا گیا ہے۔

تاہم افغانستان کے بنک کاری اور مالیاتی نظام میں بحران کی وجہ سے تمام فنڈنگ کوعملی شکل نہیں دی گئی ہے۔ اور جنگ زدہ ملک کی نصف آبادی کو اب بھی ہنگامی بنیاد پرامداد کی ضرورت ہے۔

لارکی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں متاثرہ علاقوں تک رسائی میں بہتری آئی ہے اور انسانی امداد مہیا کرنے کی کوششوں کواب افغانستان کے تمام علاقوں تک رسائی حاصل ہے۔تاہم اس وقت بڑا مسئلہ ملک کے معاشی خاتمے میں رکاوٹ ہے۔

افغانستان میں خوراک کی قلّت خشک سالی کے ساتھ ساتھ معاشی بحران کی وجہ سے ہے جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مزید گہرا ہوگیا ہے۔امریکا نے افغانستان کے اپنے ریزرو میں رکھے گئے قریباً 10 ارب ڈالر کے اثاثے غیرمنجمد نہیں کیے۔عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی افغانستان کی مالی اعانت روک رکھی ہے جس سے معاشی حالات اور ابترہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے ملک کا مالی بحران دوچند ہوگیا ہے۔