.

ایران میں قیدیوں کا قتل عام ، سویڈن میں حمید نوری سے پوچھ گچھ آج مکمل ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی جیلوں کے سابق ذمے دار حمید نوری سے پوچھ گچھ کے لیے اسٹاک ہوم (سویڈن) کی عدالت میں سماعت کا سلسلہ آج منگل کے روز مکمل ہو رہا ہے۔ نوری پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے 1988ء میں ہزاروں سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے معاملے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

رواں سال اگست میں شروع ہونے والے مقدمے میں 25 سے زیادہ گواہان نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ان افراد نے تصدیق کی ہے کہ حمید نوری مذکورہ سیاسی قیدیوں کو موت کی نیند سلانے میں براہ راست ملوث ہے۔ گواہان کے مطابق نوری قیدیوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد کے واسطے انہیں "موت کی گزر گاہ" لے کر جاتا تھا۔ یہ وہ قیدی ہوتے تھے جنہوں نے اپنی سیاسی وابستگی سے دست بردار ہو کر ایرانی نظام کے لیے وفاداری کا اعلان نہیں کیا تھا۔

یاد رہے کہ حمید نوری کو 9 نومبر کو اسٹاک ہوم کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی بعض متاثرین ، گواہان اور وکلاء کی جانب سے دائر درخواست پر کی گئی۔ ان لوگوں نے باور کرایا تھا کہ نوری تہران کے جنوب مغرب میں واقعہ شہر کرج میں گوہر دشت جیل کا معاون سربراہ تھا۔ وہ اس جیل میں "ڈیتھ کمیٹی" کا رکن بھی تھا۔

سزائے موت کا معاملہ اس وقت "ڈیتھ کمیٹی" کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہ کمیٹی ابراہیم رئیسی ، حسين علي نيّری، مصطفى پور محمدی اور مرتضى اشراقی پر مشتمل تھی۔ اسی طرح کمیٹی کی صوبائی ذیلی شاخیں بھی تھیں۔ یہ سزائے موت پر عمل درامد کرانے کی ذمے دار تھیں۔

اسٹاک ہوم کی عدالت نے رواں سال اگست میں حمید نوری پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کی وجہ نوری کا 1988ء میں 444 سیاسی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے میں ملوث ہونا ہے۔ اُس برس موسم گرما میں تقریبا 4000 قیدیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

اس عدالتی کارروائی کو بین الاقوامی اور ذرائع ابلاغ کی سطح پر بڑی اہمیت اور توجہ حاصل ہوئی۔ اس لیے کہ یہ انسانیت ے خلاف جرائم کے ارتکاب اور قیدیوں کے اجتماعی قتل عام کے الزامات کے تحت کسی ایرانی ذمے دار کے خلاف پہلی عدالتی کارروائی ہے۔

اسٹاک ہوم عدالت میں جنگی جرائم سے متعلق خاتون پبلک پراسیکیوٹر کرسٹینا کارلسن کے مطابق حمید نوری ان لوگوں میں سے تھا جو اپنے مواقف پر قائم رہنے والے قیدیوں کو سب سے زیادہ دباؤ اور تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔

اسی طرح عدالت نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل تنظیم کی ایک رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ یہ رپورٹ قیدیوں کی فوری اور جبری عدالتی کارروائیوں اور اندھادھند اجتماعی پھانسیوں کے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق موت کے گھاٹ اتارے جانے والوں کو تہران کے صحرائے خاوراں اور دیگر مقامات پر بے نام و پہچان اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔