.

سعودی عرب:کووِڈ-19؛نجی جیٹ مارکیٹ کی بحالی،پُرتعیش سفرکی مانگ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں نجی شعبے میں جیٹ طیارے چلانے والی ایک کمپنی نے کہا ہے کہ دولت مند صارفین کی جانب سے پُرتعیش سفر کی مانگ بڑھ رہی ہے کیونکہ شہری ہوابازی کی صنعت نج کاری کے بعد کووڈ-19 کے نتیجے میں ہونے والی کسادبازاری سے اب بحال ہو رہی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والی نجی جیٹ کمپنی اسکائی پرائم میں فلائٹ سپورٹ اور ان فلائٹ سروسز کےنائب صدر ماجد الشممیری نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ اب نجی چارٹر پروازوں کی بکنگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہماری کمپنی نہ صرف کووِڈ-19 کے منفی مضمرات سے سنبھل گئی ہے بلکہ اس کی بُکنگ اور آمدن میں وبا سے پہلے کے اعدادوشمارمیں بھی بہتری آرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب سے کووِڈ-19 نے دنیا کو متاثر کیا ہے، نجی ہوابازی کی صنعت میں دنیا بھر میں دیگر صنعتوں کے ساتھ ساتھ آپریشنل کمی دیکھی گئی ہے،خاص طور سعودی عرب میں انڈسٹری کے اہم کھلاڑی کی حیثیت سے ہم آمدن میں قریباً 45 فی صد کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔

تاہم فروری 2021 سے کووِڈ کے بعد طلب میں نمایاں بحالی ہوئی ہے اور یہ وبا سے پہلے کی سطح تک پہنچ گئی اور آنے والے چند مہینوں میں مارکیٹ میں 10 سے 15 فی صد کے درمیان اضافے کا امکان ہے۔

اسکائی پرائم مملکت کی کئی نجی جیٹ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔اس کے چارٹرطیاروں میں ایئربس اے 319، 320، 330 اور 340-200 اور جی 450 اور جی 550 سمیت مختلف گلف سٹریم نجی جیٹ شامل ہیں۔ یہ کمپنی دنیا بھر کے لیے پروازیں چلاتی ہے اور اس کے دولت مند گاہکوں کے برطانیہ اور امریکا مقبول مقامات ہیں۔

الشممیری نے بتایا کہ نجی جیٹ چارٹر کرنے کی قیمتیں طیارےکے سائز، مسافروں کی تعداد، منزل اور طلب کی جانے والی سروس کی بنیاد پر مختلف ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت سعودی عرب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ ویژن2030 کی بدولت معاشرے میں ایک بڑی ترقی پسند تبدیلی سے گزررہا ہے اور توقع ہے کہ وہ خطے میں شہری ہوابازی میں ایک اہم کردار بن جائے گا۔اس وقت مینا کے خطے میں نجی جیٹ مارکیٹ میں اس کا 50 فی صد حصہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر ہم اسکائی پرائم کو ایک ماڈل کے طور پر لیں تو تحفظ، صحت اور خدمات کے معیار میں اس کی فضیلت کی وجہ سے ہم کہیں گے کہ کووِڈ-19 کی لہر ختم ہونے کے بعد ہم بالکل مثبت ہیں۔اب ہماری خدمات کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔بنیادی طور پر اگر ہم سعودی عرب میں ہونے والی تمام سرگرمیوں، مہموں،تقریبات اور زیادہ سیاحوں کو مدنظر رکھیں تو فنکار اورکاروباری شراکت دار دنیا بھر سے سیلاب کی طرح سعودی عرب کا رُخ کررہے ہیں۔‘‘

اسکائی پرائم کا تصور مشرق اوسط میں سعودی شاہی خاندان ،وزرا، معززین، اہم ترین شخصیات اور اشرافیہ کے افراد کے لیے پرتعیش سفر کا رہ نما بننے کے خیال سے پیش کیا گیا تھا۔

لینیئرائیرکے مطابق نجی طیارے کو چارٹر کرنے پر 1300 ڈالر سے لے کر 13000 ڈالر فی گھنٹہ سے زیادہ لاگت آ سکتی ہے۔اس کا انحصار طیارے کے سائز اور قسم، ایندھن سرچارجز، مختلف فیسوں، ان فلائٹ رہائش اور ٹیکسوں پر ہوتا ہے۔ طیارے کی قسم اورسائز سب سے بڑا لاگت کا عنصر ہے۔

سعودی عرب میں نجی جیٹ کے استعمال کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔امریکا کے صنعتی گروپ ہونی ویل کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2019 کے مقابلے میں رواں سال نجی جیٹ کے استعمال میں پانچ فی صد اضافے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔یہ تجارتی پروازوں میں فرسٹ یا بزنس کلاس پرواز کرنے والے مسافروں کی تعداد کے برعکس ہے۔

انٹرنیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق 2019 کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس موسم گرما میں پریمیم کلاس کے سفرمیں 56 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔تاہم شہری ہوابازی کی صنعت،جو وبا کے دوران میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں سے ایک ہے، خلیج بھرمیں بحالی کے مثبت آثارظاہر کر رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں اسی ماہ منعقدہ 2021 کے دبئی ایئر شو سے قبل بات کرتے ہوئے شہری ہوابازی کے تجزیہ کاروں نے عالمی سطح پرکمرشل ایرواسپیس کے لیے 2022 میں سالانہ 13 فی صد اضافے کی پیشین گوئی کی ہے۔

دبئی کی پرچم بردار الامارات ائیرلائن نے مضبوط بحالی کی اطلاع دی ہے اور2021-2022 کے مالی سال کی ایک ششماہی میں اس کی آمدنی میں 86 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ اس کے پچھلے نقصانات میں کمی آئی ہے۔ اس نے اگلے چھے ماہ کے دوران میں 6000 سے زیادہ ملازمین پر مشتمل عملہ کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔