.

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی صدارتی انتخابات سے چند ہفتے قبل مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سلوواکیہ سے تعلق رکھنے والے جان کوبس اپنے عہدے سے اچانک مستعفی ہوگئے ہیں۔انھوں نے ایک سال سے بھی کم عرصہ لیبیا میں عالمی ادارے کے ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار نے اپنانام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کوبتایا کہ کوبس نے استعفا دے دیا ہے۔بعض دوسرے سفارتی ذرائع نے بھی اس اچانک پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

ان کے استعفے کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔انھوں نےلیبیا میں نمایاں اہمیت حامل صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف ایک ماہ قبل اپنا عہدہ چھوڑا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل حال ہی میں اس بات پر منقسم نظر آئی ہے کہ آیا لیبیا میں عالمی ادارے کے سیاسی مشن کی قیادت کودوبارہ تشکیل دیا جائے یا نہیں، متعدد ارکان نے ایلچی کے عہدے کوجنیوا سے طرابلس منتقل کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ کوبس اس طرح کے اقدام سے گریزاں تھے۔اقوام متحدہ کی ابلاغی سروس نے دم تحریر 69 سالہ سفارت کار کے عہدہ سے دستبردار ہونے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

لبنان کے لیے اقوام متحدہ کے سابق ایلچی کوبس کوجنوری میں لیبیا میں ایلچی مقررکیا گیا تھا۔ان کے مستعفی ہونے سے صرف ایک ماہ کے بعد 24 دسمبر کو خانہ جنگی کاشکارلیبیا میں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں اور ان میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی سوموار کوآخری تاریخ تھی۔

لیبیا کے انتخابی کمیشن کے مطابق دوخواتین سمیت کل 98 امیدواروں نے صدارتی امیدوار کے طور پردرخواستیں جمع کرائی ہیں۔

قابل ذکرامید واروں میں مقتول صدر معمرالقذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی اور ملک کے مشرق اور جنوب کے کچھ حصوں پر قابض خود ساختہ لیبی قومی فوج(ایل این اے) کے کمانڈرجنرل خلیفہ حفترشامل ہیں۔

ان کے علاوہ سابق وزیرداخلہ فتحی باشاغا اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں تشکیل شدہ قومی اتحاد کی عبوری حکومت کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ بھی صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔