.

افغان طالبان کا آسٹریلوی کمپنی کے ساتھ 45 کروڑڈالرمیں بھنگ مرکز کے قیام کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے حکمران طالبان نے آسٹریلوی کمپنی سی فارم کے ساتھ ایک معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔اس کے تحت کمپنی جنگ زدہ ملک میں بھنگ کا پروسیسنگ مرکزقائم کرنا چاہتی ہے۔

طالبان کے پریس ڈائریکٹر قاری سعید خوستی نے بتایاکہ معاہدے کے تحت منصوبے پرآیندہ چند روز میں عمل درآمد شروع ہوجائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ بھنگ سے طبی کریم تیار کرنے والی آسٹریلوی کمپنی کوملک میں ہزاروں ایکڑ پر کاشت بھنگ کی فصلوں تک رسائی دی جائے گی۔

پژواک خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے نائب وزیرمنشیات نے منگل کے روز کمپنی کے نمایندے سے ملاقات کی تھی۔اس کمپنی نے اس منصوبے کے لیے 45 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

اگست میں افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے ملک میں بھنگ کی پیداوار کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔

صوبہ قندھارمیں طالبان کے گورنر یوسف وفا نے اکتوبر میں کہا تھا کہ منشیات استعمال کرنے والوں کو گرفتارکیا جارہا ہے اور کسانوں کو بھنگ یا پوست کی کاشت کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔تاہم افغان کسانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے طالبان کے رویے میں اس ضمن میں کوئی تبدیلی ملاحظہ نہیں کی ہے۔

بھنگ اورپوست کی فصلیں ماضی قریب میں سخت گیرطالبان کی امریکاکی قیادت میں غیرملکی افواج کے خلاف مزاحمتی جنگ کے دوران میں آمدن کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی تھیں اور وہ افغانستان پرامریکا کی قیادت میں قبضے کے دوران میں بھنگ اور پوست کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال میں لاتے تھے۔