.

ایران کے ساتھ بات چیت میں متنازع امور پراتفاق نہیں ہوسکا:سربراہ آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے تہران سے واپسی کے ایک روز بعد کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی سے متعلق تنازعات کے حل پر متفق نہیں ہوسکے ہیں اور ان کی ایرانی حکام سے بات چیت بے سود رہی ہے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹرجنرل رافایل گراسی نے بورڈ آف گورنرز کے سہ ماہی اجلاس کو بتایا کہ ’’تہران میں ان کے مذاکرات ’’بے نتیجہ‘‘رہے ہیں، باوجود اس کے کہ انھوں نے اس سے قبل انھیں تناؤ زدہ مذاکرات قراردیا تھا۔‘‘

گراسی نے بورڈ اجلاس سے خطاب کے فوراً بعد بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی بہترین کوششوں کے باوجود متفق نہیں ہو سکے۔

تہران میں دیگر حکام کے علاوہ انھوں نے ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی سے ملاقات کی۔وہ اس دورے سے قبل ایجنسی اور تہران کے درمیان تنازع کے متعدد نکات پر پیش رفت کی امید کر رہے تھے۔

ان میں رواں سال کے اوائل میں آئی اے ای اے کے معائنے کی سرگرمی میں حائل کی جانے والی رکاوٹوں کو دور کرنے، ایران میں مختلف مقامات پرغیرعلانیہ جوہری مواد کی موجودگی پرغیرمعمولی سوالات اورآئی اے ای اے کے عملہ کے ساتھ سلوک شامل ہیں۔

یہ بات چیت آیندہ پیر کو تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کی مقررہ بحالی سے قبل ہوئی ہے۔ویانا میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد 2015 میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی ہے۔اس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پرقدغنیں عاید کردی تھیں اور اس کے بدلے میں امریکا نے اس پر عایدبعض اقتصادی پابندیاں ختم کردی تھی۔

تاہم بعد میں 2018ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اب صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ ایران سے اس جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے ویانا میں اپریل سے بالواسطہ بات چیت کررہی ہے۔