.

وزیراعظم حمدوک اورفوج کے درمیان معاہدے کے خلاف سوڈانیوں کے احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم اوردوسرے شہروں کی سڑکوں پر ہزاروں سوڈانی شہریوں نے وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور فوج کے درمیان مفاہمتی معاہدے کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔

سوڈانی ایک ماہ قبل فوج کی نگران حکومت کے خلاف بغاوت اور اب معزول سویلین وزیراعظم کو واپس لانے کے معاہدے کے ردعمل میں مظاہرے کررہے ہیں اور ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سوڈان کی نمایاں سیاسی جماعتوں اور طاقتور احتجاجی تحریک نے گذشتہ اتوارکو وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے فوج کے ساتھ معاہدے پر دست خط کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے اوربعض نے اسے دھوکا دہی قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ یہ معاہدہ فوجی قبضے کے لیے سیاسی چھتری مہیا کرتا ہے۔

خرطوم کے علاقے الدائم میں احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد’’انقلاب،عوامی انقلاب‘‘،’’ فوج واپس بیرکوں میں جائے‘‘کے نعرے لگارہے تھے۔انھوں نے پہلے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے ’’شہیدوں‘‘کے خون کے انصاف کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے دارالحکومت کے محلے صحفہ میں واقع ایک مرکزی شاہراہ بھی بند کردی۔

سوشل میڈیا پر لائیو اسٹریمز میں پورٹ سوڈان، کسالہ، وادِمدنی اور ایل جینینا سمیت دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے دکھائے گئے ہیں۔

اگرچہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی عہدے پر بحالی کو فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی جانب سے ایک ’’رعایتی اقدام‘‘ قراردیا جارہا ہےلیکن اہم سیاسی جماعتوں اور سویلین گروپوں کا کہنا ہے کہ فوج کاسیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

خرطوم میں مظاہرے میں شریک جامعہ کے طالب علم اسامہ احمد نے کہا کہ وہ البرہان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ وہ انقلاب کوگرانا چاہتے ہیں اورسویلین ریاست کے قیام کو روکنا چاہتے ہیں۔

اتوار کے معاہدے کی شرائط کے تحت عبداللہ حمدوک 2023 تک جاری رہنے والے سیاسی انتقال اقتدار کے دوران میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل حکومت کی قیادت کریں گے اور فوج کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوں گے۔اس معاہدے کے تحت دراصل اپریل 2019 ءمیں سابق مطلق العنان عمرالبشیر کا تختہ الٹنے کے بعد فوجی اور سویلین سیاسی قوتوں کے درمیان طے شدہ پہلے معاہدے کی توثیق کی گئی ہے۔اس معاہدے کے تحت انھوں نے انتخابات تک شراکتِ اقتدارپررضامندی ظاہر کی تھی مگرایک ماہ قبل فوجی بغاوت نے اس شراکت داری کو ختم کردیا تھا۔

فوجی قبضے سے قبل فوج کے ساتھ اقتدار میں شریک سویلین اتحاد اور اس کے سابق وزرا نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں فوج مخالف مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے نئے معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

مگر وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے العربیہ سے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ سوڈان میں خون ریزی سے بچنے اورحال ہی میں حاصل ہونے والے فوائد کا تحفظ فوج کے ساتھ طے شدہ سیاسی معاہدے کی بنیادہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ سیاسی معاہدہ سوڈانیوں کاخون بچانے اور حاصل شدہ فوائد کے تحفظ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔عبداللہ حمدوک نے منگل کے روز العربیہ کو بتایا کہ سوڈان میں بات چیت کا کوئی متبادل نہیں اور ہم انتخابات کے انعقادکی سمت میں کام کر رہے ہیں۔