.
جوہری ایران

ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی حملے پر کام کر رہے ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب مستقبل میں عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کی شرائط کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی حملہ کرنے کی صلاحیت کی تیاری پر بھی کام کررہا ہے۔

اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیردفاع نے جمعرات کے روز کہا کہ "ہمیں ایران کے حوالے سے اپنے شراکت داروں پر اثر انداز ہونا ہے اور ان کے ساتھ مسلسل بات چیت کرنی ہے"۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایک ایسا جوہری معاہدہ چاہتا ہے جو نہ صرف یورینیم کی افزودگی کے مسئلے کو حل کرے بلکہ خطے میں ایران کی سرگرمیوں کو بھی حل کرے۔ کوئی بھی "اچھا" معاہدہ جو یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے موجودہ معاہدے میں موجود خلا کو ختم کرے اس میں ایران کا میزائل سسٹم اور معاہدے کی مدت کے علاوہ ایران کی خطے میں سرگرمیوں کی روک تھام بھی شامل ہونی چاہیے‘‘۔

ہم خاموشی سے کھڑے نہیں رہیں گے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی امور کے انچارج امریکی ایلچی نے زور دے کر کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیزی سے کام نہیں کرتا ہے تو واشنگٹن "خاموش" نہیں رہے گا۔ .

منگل کو قومی ریڈیو کو دیے گئے ایک بیان میں روب میلے نے کہاکہ اگر وہ (ایرانی) معاہدے پر واپس نہ آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں دوسرے سفارتی ذرائع کو دیکھنا پڑے گا۔ اگر ایران نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کو نہ مانا تو ہم ہاتھ باندھے کھڑے نہیں رہیں گے۔

مالے نے انکشاف کیا کہ ہم معاہدے کی شرائط کی پاسداری کی طرف واپس آنے اور اس سے متصادم تمام پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایران معاہدے پر واپس آنا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اگر تہران ایسا نہیں کرتا ہے اور معاہدے کی طرف واپس نہیں آنا چاہتا۔ اگر اس نے وقت گذاری کی پالیسی اپنا رکھی ہے وہ اس وقت کر رہا ہے۔ اگر اس نے یہ راستہ اختیار کیا تو ہمیں اس کے مطابق جواب دینا پڑے گا۔

رافیل گروسی
رافیل گروسی

جوہری تنازع پر مذاکرات

قابل ذکر ہے کہ ابراہیم رئیسی کے ایران کے صدر منتخب ہونے کے 5 ماہ کے وقفے کے بعد تہران کے ساتھ اس کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش میں ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان پیر کو ویانا میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

بدھ کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی ایران کے دورے سے واپس آئے جس کے بعد انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام پر جاری اختلافات پر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا اعلان کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اس سال کے شروع میں بالواسطہ طور پر بات چیت میں حصہ لیا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ یک طرفہ طورپر سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پائے معاہدے سے دست بردار ہوگئے تھے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم تک ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔