.
افغانستان وطالبان

لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور جامعات کو آئندہ سال کھول دیں گے : افغان طالبان کا نیا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال اگست (2021ء) میں افغانستان پر تحریکِ طالبان کے کنٹرول کے بعد سے تحریک طالبات کی تعلیم کے دوبارہ شروع ہونے سے متعلق کر چکی ہے تاہم ان پر عمل درامد نہیں ہوا۔ ہ ملک میں ہزاروں لڑکیا ابھی تک تعلیم سے محروم ہیں۔

البتہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کل جمعرات کے روز ایک نیا وعدہ کرتے ہوئے کہ لڑکیوں کے لیے اسکول اور جامعات کو آئندہ برس کھول دیا جائے گا۔ افغان میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات کابل کے مغرب میں متعدد مقامی باشندوں ے ملاقات کے دوران میں کہی۔

ترجمان نے باور کرایا کہ طالبات کے تعلیم کے سلسلے کی واپسی پر تحریک کے معیارات اور ہدایات لاگو ہوں گی۔

یاد رہے کہ 1996ء سے 2001ء تک اپنے پہلے دورِ حکومت میں طالبان نے خواتین پر سخت احکامات نافذ کیے تھے۔ انہیں کام سے روک دیا گیا تھا بلکہ وہ ملک میں منظر عام سے مکمل طور پر غائب ہو گئی تھیں۔ انہیں تنہا سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ طالبان تحریک نے ستمبر میں لڑکوں اور مرد معلمین کے لیے اسکولوں کے دوبارہ کھولے جانے کا اعلان کیا تھا۔ طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ لڑکیوں کے اسکولوں کو جلد پھر سے کھول دیا جائے گا۔ تاہم کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اس دوران عالمی برادری کی جانب سے بارہا یہ مطالبات کیے گئے ہیں کہ ملک میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔