.

کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پرسیف الاسلام کا رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیف الاسلام نے لیبیا میں صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر کیے جانے کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کل جمعرات کوسیف الاسلام قذافی نے ایک بیان جاری کیا جس میں لیبیا کے لوگوں سے انتخابی کارڈ حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کی اپیل کی گئی۔ انہوں کہا کہ ہم سب کو انتخابی کارڈ حاصل کرنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔طاقت کے ساتھ۔

اپیل کی سماعت کا تعین

مقامی میڈیا کے مطابق سیف الاسلام کے وکیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدارتی الیکشن کی دوڑ سے اخراج کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے تھی۔ اپیل کی سماعت کی تاریخ بھی طے کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی اس پر حملہ کیا گیا اور ججوں کو زد و کوب کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ آج سے قبل سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے رکن محمد القیلوشی نے العربیہ/الحدث کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے امیدوار کے خلاف غیر حاضری میں فیصلہ دیا۔ سیف الاسلام کے خلاف کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدلیہ کو سیاست میں نہیں گھیسٹنا چاہیے۔

لیبیا کے الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز ایک ابتدائی فیصلے میں اعلان کیا ہے کہ سابق مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ کل 98 امیدواروں میں سے 25 امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق لیبیا کے الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے نے بُدھ کے روز بتایا کہ کمیشن نے 24 دسمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں 98 رجسٹرڈ امیدواروں میں سے 25 کو نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔

بعد ازاں کمیشن نے ان ناموں کی مکمل فہرست جاری کی گئی ہے۔ نا اہل قرار دیے گئے امیدوار فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کرسکتےہیں۔

لیبیا کے الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس نے صدارتی انتخابات کے لیے امیدواروں کی ابتدائی فہرست کی منظوری دے دی ہے اور اس میں خلیفہ حفتر، عقیلہ صالح اور عبدالحمید الدبیبہ سمیت 73 امیدواروں کو شامل کیا گیا ہے۔

قبل ازیں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے ایلچی جان کوبیش نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ اس سال کے آخر میں طے شدہ لیبیا کے انتخابات کے انعقاد میں ناکامی صورت حال میں شدید خرابی اور مزید تقسیم اور تنازعات کو جنم دے گی۔