.
یمن اور حوثی

یمنی عوام ایرانی تجربے کو قبول نہیں کریں گے: منصورھادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے جمعرات کو کہا ہے کہ یمن کے عوام ایرانی تجربے کو قبول نہیں کریں گے، چاہے وہ کتنی بھی قیمت کیوں نہ ادا کریں۔ ایک محفوظ، منصفانہ اور مستحکم وطن میں ہمارے یمنی عوام کا مقدر ہے۔

جرمن سفیروں ہیوبرٹ جوزف یگس، مالٹا کلائیو ایکولینا سیبیانیول اور یونان کے الیکسس کانسٹنٹو پالوس کوسفارتی اسناد جاری کرنے کی تقریب سے خطاب میں بعد انہوں نے نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا اور ان کا سرپرست ایران اپنی دشمنی کی بنیاد پر امن کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی پرواہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے یمن کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت اور یمن کی آئینی حکومت کی حمایت کو سرہا۔ انہوں نے سعودی قیادت میں اتحادی ممالک کی یمنی عوام کے لیے کوششوں، جنگ زدہ عوام کے لیے امداد، یمن کے موجودہ حالات کی روشنی میں معاشی اور انسانی پہلوؤں سمیت مختلف پہلوؤں میں مدد کی تحسین کی۔

مآرب میں ملیشیاؤں کے خلاف آپریشن

ادھر محاذ جنگ سےملنے والی اطلاعات کے مطابق یمن میں آئینی حکومت کے معاون عرب اتحاد نے جمعرات کو مآرب گورنری میں ملیشیاؤں کے خلاف متعدد کارروائیوں کے اعلان کیا۔

انہوں نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یمنی فوج کی مارب میں پیش قدمی کے دوران شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے گئے۔

عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ مآرب میں حوثی ملیشیا کے 60 سے زائد ارکان ہلاک اور 5 گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کی فضائیہ نے 24 گھنٹوں کے اندر گورنری میں حوثیوں کے خلاف 8 ٹارگٹ آپریشنز کئے۔