.

"افغان مونا لیزا"کو اٹلی میں نیا گھر مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سبز آنکھوں والی "افغان لڑکی" جو برسوں پہلے "نیشنل جیوگرافک" میگزین کی جانب سے شائع ہونے والی ایک تصویر میں مشہور ہوئی تھی، طالبان کے اقتدار میں آنے اور ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغان شہریوں کو نکالنے کی مغرب کی کوششوں کے تحت اٹلی پہنچ گئی ہیں۔

اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریگی کے دفتر نے جمعرات کو بتایا کہ کہ اٹلی نے افغان خاتون شربت گلا کو ملک چھوڑنے میں مدد کی درخواست کرنے کے بعد ان کے انخلاء کا انتظام کیا تھا۔

بیان کے مطابق، اطالوی حکومت اسے اٹلی میں زندگی گذارنے میں مدد کرے گی۔

تنازعات کے دور کی علامت

انہوں نے کہا کہ ان کی تصویر تاریخ کے اس باب میں آنے والے اتار چڑھاؤ اور تنازعات کی علامت بن گئی ہے جسے افغانستان اور اس کے لوگوں نے برسوں تک برداشت کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں "سول سوسائٹی، خاص طور پر افغانستان میں کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں کی طرف سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس میں گلا کی ملک چھوڑنے میں مدد کی درخواست کی گئی تھی‘‘۔

شربت 1984 میں ایک افغان پناہ گزین لڑکی کے طور پر جنگی فوٹوگرافر اسٹیو میک کیری کی تصویر کشی کے بعد مشہور ہوئی اور میگزین کے سرورق پر اس کی گہری سبز آنکھیں آنے کے بعد شہرت پائی۔ میک کیری نے اسے 2002 میں دوبارہ دیکھا تھا۔

صدارتی استقبالیہ

سنہ2014 میں وہ پاکستان میں نمودار ہوئی لیکن پھر روپوش ہوگئی جب حکام نے اس پر جعلی پاکستانی شناخت خریدنے کا الزام لگایا اور اسے ملک بدری کا حکم دیا۔ اس نے کابل کا سفر کیا جہاں صدر نے صدارتی محل میں اس کے لیے ایک استقبالیہ دیا اور اسے ایک نئے اپارٹمنٹ کی چابیاں دیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اٹلی ان مغربی ممالک میں سے ایک ہے جس نے اگست میں امریکی افواج کے انخلاء اور طالبان کے قبضے کے بعد سینکڑوں افغانوں کو ملک سے نکلنے میں مدد فراہم کی تھی۔