طالبان کاامریکا سے افغانستان کی اربوں ڈالر کی منجمدرقوم جاری کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان نے دوحہ میں دو روزہ مذاکرات کے بعد امریکا سے افغانستان کے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ غیرملکی امداد پر گزارہ کرنے والا جنگ زدہ ملک اس وقت سخت معاشی بحران سے دوچار ہے۔

افغان وزیرخارجہ ملّا امیرخان متقی اورافغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹام ویسٹ کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان پرعاید پابندیوں کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکا کے افغانستان پر20 سالہ فوجی قبضے کے خاتمے اورطالبان کے اگست میں آناً فاناًاقتدارمیں آنے کے بعد قطر میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقاہر بلخی نے ٹویٹ کیا کہ دونوں وفود نے سیاسی، اقتصادی، انسانی، صحت، تعلیم اور سلامتی سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ ضروری بنک کاری اورنقد رقوم مہیا کرنے کی سہولت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

افغان وفد نے امریکی فریق کو سلامتی کی یقین دہانی کرائی اور زور دیا کہ افغانستان کی منجمد رقوم غیر مشروط طور پرجاری کی جائیں، بلیک لسٹ اور پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے اورانسانی امورکو سیاسی معاملات سے الگ کیا جانا چاہیے۔

واشنگٹن نےافغانستان کے مرکزی بنک کےقریباً ساڑھے نو ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کررکھے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اورعالمی بنک نے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں بھی معطل کردی ہیں اوراگست میں آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ امداد کے ساتھ ساتھ 34 کروڑ ڈالر کی رقم بھی روک رکھی ہے۔

عشروں پرمحیط طویل جنگ کے بعدافغان معیشت تباہ ہو چکی ہے، سرکاری ملازمین کو کئی ماہ تک تنخواہ نہیں دی گئی ہیں اورقومی خزانہ درآمدات کی ادائیگی کرنے سے قاصرہے۔اقوام متحدہ نے خبردارکیا ہے کہ موسم سرما کے مہینوں میں قریباً دوکروڑ 20 لاکھ افراد یعنی نصف سے زیادہ آبادی کو خوراک کی ’’شدیدقلّت‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

طالبان حکومت کے رہنما ملّامحمد حسن اخوند امریکی پابندیوں کا نشانہ بنانے والوں میں شامل ہیں۔دوحہ مذاکرات میں امریکی فریق ان اقدامات پرقائم رہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ عام افغانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نےایک بیان میں کہا کہ امریکااس بات کویقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ امریکی پابندیاں افغان شہریوں کی عالمی برادری کی جانب سے انسانی امداد حاصل کرنے کی اہلیت کومحدود نہ کریں جبکہ منظورشدہ اداروں اورافراد کو اثاثوں سے انکار نہ کریں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے افغان عوام کوانسانی امداد کے مسلسل بہاؤاور بنیادی انسانی ضروریات مہیاکرنے والی دیگرسرگرمیوں کی حمایت کے لیے عمومی لائسنس جاری کیے ہیں۔

امریکانے طالبان پریہ بھی زوردیاکہ وہ ملک بھرمیں خواتین اورلڑکیوں کو تعلیم تک رسائی مہیا کریں۔اس نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہارکیاہے۔

اس نے طالبان کو اس عزم کی یاددہانی کرائی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمین پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور افغانستان سے امریکی شہریوں کو محفوظ راستے کی ضمانت دیں گے۔

امریکی وفد نے گذشتہ سال فروری میں افغانستان میں اغوا ہونے والے امریکی شہری مارک فریچز کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔طالبان نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ ملّامتقی نے دوحہ میں افغانستان میں جاپانی اور جرمن سفیروں سے بھی ملاقات کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں