سوڈان میں مظاہروں میں زخمیوں کی تعداد 98 ، یورپی یونین کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں منگل کے روز ہونے والے مظاہروں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بعض احتجاجیوں نے صدارتی محل کے نزدیک جانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کو روکنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا تا کہ مجمع کو منتشر کیا جا سکے۔

ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان کے مطابق آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں 98 مظاہرین زخمی ہوئے۔

سوڈان میں یورپی یونین کے مشن کے سربراہ ڈینیل وائس نے احتجاجیوں کے خلاف بعض صورتوں میں ہونے والی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ "سوڈان میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں قابل قبول نہیں"۔

خرطوم اور سوڈان کیے دیگر صوبوں میں کل منگل کے روز عوامی مظاہرے دیکھے گئے۔ مظاہرین خود مختار کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے درمیان 21 نومبر کو طے پانے والے سیاسی معاہدے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

دارالحکومت کے وسط میں ہزاروں افراد احتجاج میں شامل ہوئے۔ انہوں نے ملک کی حکمرانی میں عسکری شراکت داری کی مذمت کی۔

یاد رہے کہ 25 اکتوبر 2021ء کو مسلح افواج کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور حکومت تحلیل کرنے کے بعد شہری تنظیموں نے رابطہ کاری کے ذریعے ان غیر معمولی اقدامات کو مسترد کرنے کے لیے مظاہروں کی کال دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں