ایران کی سرحد پر طالبان اور پاسداران انقلاب میں جھڑپوں میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان عسکریت پسندوں اور ایرانی سرحدی محافظوں کے درمیان کل بدھ کو ایران کے ساتھ سرحد پر واقع جنوبی افغانستان کے صوبے نمروز کے کنج ضلع میں مسلح جھڑپیں شروع ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات آئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کنج علاقے کے رہائشیوں سے ویڈیوز حاصل کی ہیں جن میں جھڑپوں میں دونوں طرف سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال دکھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی باشندوں نے بتایا کہ طالبان نے علاقے کے مکینوں کو فوری طور پر اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا ہے جب کہ افغان ایران سرحد پر سیکیورٹی اور فوجی کمک بڑھا دی گئی ہے۔

جھڑپوں کی وجہ معلوم نہیں

سوشل میڈیا پر طالبان سے وابستہ اکاؤنٹس نے ایرانی سرحدی محافظوں کی متعدد فوجی چوکیوں پر تحریک کے کنٹرول کی خبریں شائع کیں۔

دوسری جانب ایرانی تسنیم ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ یہ جھڑپیں "سرحد کی غلط فہمی" کی وجہ سے ہوئیں جو افغان صوبے نمروز کے قریب شگالک کے علاقے میں ہوئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 30 اپریل کو امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے افغانستان سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے متعدد محاذوں پر سابق حکومتی افواج کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کردیے تھے۔ حکومتی فورسز طالبان جنگجوؤں کے سامنے شکست سے دوچار ہوگئیں اور طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کرلیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں