ایران کے حالیہ اقدامات سے کسی نئی جوہری ڈیل کی کوئی امیدپیدا نہیں ہوتی:انٹونی بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ ’’مستقبل قریب میں یہ معلوم ہوجائے گا کہ آیا ایران نیک نیتی سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات میں شریک رہنا چاہتاہے لیکن اس کی حالیہ غوغاآرائی سے تواُمید کا کوئی پہلو نہیں نکلتا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا:’’مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ (ایران کی) حالیہ غوغاآرائی اوراقدامات سے تو کوئی بہت زیادہ اُمید پیدا نہیں ہوتی ہے۔‘‘

انٹونی بلینکن نے سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون یورپ کے اجلاس میں شرکت کی ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایاہے کہ انھوں نے اپنے اسرائیلی اور روسی ہم منصب سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ان کاکہنا تھا:’’اگر یہ کہاجاتا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلا جارہا ہے اور بہت تاخیرہوچکی توایران کے لیے اپنے اقدام کو واپس لینے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔‘‘

قبل ازیں آج ہی اسرائیل نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ویانا میں جاری جوہری مذاکرات فوری طور پر روک دیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ایک اعلان کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے مزید جدید سینٹری فیوجز کے ساتھ افزودہ یورینیم کی پیداوارشروع کردی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن کے ساتھ ایک فون کال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کو جوہری بلیک میل کے لیے ایک حربے کے طورپراستعمال کررہا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ساتھ ویانا میں جاری مذاکرات کو فوری طور پر روک دیا جائے اورعالمی طاقتیں اس کے خلاف سخت اقدامات پرعمل درآمد کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں