سوڈان میں 2023ءمیں انتخابات کے بعد فوج سیاست چھوڑ دے گی:جنرل البرہان

انتقال اقتدار کے عمل میں کالعدم سابق حکمران جماعت کا کوئی کردار نہیں ہوگا:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کی عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ فوج 2023ء میں ہونے والے انتخابات کے بعد سیاست چھوڑدے گی۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ انتقال اقتدار کے عمل میں کالعدم سابق حکمران جماعت کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

اکتوبرکے آخرمیں جنرل عبدالفتاح برہان کی قیادت میں فوج نے اقتدار پرمکمل قبضہ کرلیا تھا اور سوڈان کی سویلین کی قیادت میں حکومت کے ساتھ جمہوریت کی منتقلی کا عمل ختم ہوگیا تھا۔21 نومبرکو فوج اور سول قیادت میں ایک نیا معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت وزیراعظم عبداللہ حمدوک کوجولائی 2023 میں انتخابات کے انعقاد تک ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ کی قیادت کے لیے بحال کیا گیا تھا۔

جنرل البرہان نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے انٹرویو میں کہا کہ ’’جب کوئی حکومت منتخب ہوتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ مسلح افواج یا سکیورٹی فورسز میں سے کوئی بھی سیاست میں حصہ لے گی۔ہم نے اسی پر اتفاق کیا ہے اور یہ قدرتی صورت حال ہے‘‘۔

سوڈان کی مزاحمتی کمیٹیوں اور سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے فوج سے فوری طور پر سیاست کو خیرباد کہنے کا مطالبہ کیا ہے اوروزیراعظم عبداللہ حمدوک اور فوج کے درمیان نئے معاہدے سمیت کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے۔ طبی عملہ کے مطابق فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف مظاہروں کے دوران میں 44 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان میں بیشتر افراد سکیورٹی فورسزکی گولیوں سے زخمی ہوئے تھے اور پھر وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے ہیں۔

جنرل عبدالفتاح البرہان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے صرف غیرپرامن مظاہروں کومنتشرکرنے کے لیے کارروائی کی تھی۔

سوڈانی فوج نے سابق مطلق العنان صدر عمرحسن البشیرکو بدعنوانی اور دیگرالزامات کے تحت ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد جیل میں ڈال دیا تھا۔ کئی دیگر سوڈانی مشتبہ افراد کے ساتھ وہ دارفور میں مبیّنہ جنگی جرائم پر ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھی مطلوب ہیں۔

اکتوبر میں فوجی بغاوت میں تحلیل ہونے والی سویلین حکومت نے عمرالبشیرکوآئی سی سی کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی تھی لیکن فوج نے ابھی تک اس سے اتفاق نہیں کیا ہے۔

جنرل البرہان نے کہا کہ عدلیہ کے سامنے پیشی کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ساتھ ہماری مفاہمت ہے۔ہم عدالت کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں کہ متاثرین کے ساتھ کیسے درست معاملہ کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں