ایران پیش کردہ مسودۂ تجاویز کی بناپرجوہری مذاکرات جاری رکھنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ اس نے گذشتہ ہفتے پیش کی گئی تجاویز کے مسودے کی بنیاد پر مغربی طاقتوں پر ویانا میں مذاکرات روکنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ویانا میں گذشتہ ہفتے پانچ ماہ کے وقفے کے بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات بحال ہوئے تھے۔ان کا مقصد2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی ہے۔گذشتہ بدھ کو ایران نے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور جوہری اقدامات سے متعلق دو قراردادوں کے مسودے پیش کیے تھے۔

لیکن اختتام ہفتہ پرامریکا اور ویانا مذاکرات میں شریک یورپی ممالک نے ایران پر اپنے مؤقف سے انحراد کا الزام عاید کیا ہے۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینیرعہدہ دار نے بتایاکہ ان تجاویز کے ذریعے مذاکرات کے پچھلے چھے ادوار میں ایران کی جانب سے کیے گئے کسی بھی سمجھوتے کو واپس لے لیا جائے گا۔

امریکی عہدہ دار نے ایران پرالزام لگایا کہ وہ ان تمام سمجھوتوں کویکسر ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو خاص طور پر امریکانے اس سے کیے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کوامریکا کے اس مؤقف پرجوابی وار کیا ہے۔انھوں نے مسودۂ تجاویز کے بارے میں تہران میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’ہماری تحریریں مکمل طور پر قابل مفاہمت ہیں جبکہ دوسرے فریق محض الزام تراشی کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں‘‘۔

خطیب زادہ نے مزید کہا کہ ہم فطری طور پر ان تحریروں کے بارے میں دوسرے فریق کی رائے سننے کے منتظر ہیں اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے پاس تحریری طور پرہمارے لیے کوئی حقیقی (جوابی) پیش کش ہے۔

جوہری مذاکرات کا ساتواں دورگذشتہ جمعہ کو ویانا میں پانچ روز کے بعد ختم ہوا تھا مگراس میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔اس میں شریک وفود اپنے قومی دارالحکومتوں میں لوٹ آئے ہیں اور توقع ہے کہ وہ اگلے ہفتے آسٹریا واپس جائیں گے۔

خطیب زادہ نے مذاکرات کے حوالے سے توقع ظاہرکی ہے کہ وہ ہفتے کے آخرمیں دوبارہ شروع ہوں گے۔ان میں 2015ء میں طے شدہ تاریخی جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے طرفین کی شرائط پر غور کیا جارہا ہے۔ابتدائی طور پر ایران کا برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے ساتھ یہ سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عاید کرنا تھاتاکہ وہ جوہری ہتھیار تیارنہ کرسکے۔

واضح رہے کہ 2018ء میں سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اس سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے اورانھوں نے دوبارہ پابندیاں عاید کردی تھیں۔ اس کے ردعمل میں ایران نے 2019ء میں ایران نے جوہری پروگرام پر دوبارہ حساس نوعیت کا کام شروع کردیا تھا اور یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کردی تھی۔تاہم ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں