چین بحر اوقیانوس کے مقابل فوجی اڈا بنائے گا : امریکی خفیہ رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا اور چین کے درمیان نفوذ کا تنازع جاری ہے۔ اس حوالے سے امریکی انٹیلی جنس کی تازہ خفیہ رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین وسطی افریقا کے ملک "استوائی گنی" میں اپنا ایک فوجی اڈا بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی ذمے داران کے مطابق یہ اقدام بحرِ اوقیانوس میں چین کے پہلے مستقل بحری وجود کا موقع فراہم کرے گا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکی ذمے داران نے خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی تفصیلات پر گفتگو سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ چینی جنگی بحری جہاز امریکا کے مشرقی ساحل کے نزدیک دوبارہ سے اسلحہ سے لیس ہونے اور دیکھ بھال کی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ امر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کے اندیشوں کو جنم دے رہا ہے۔

ادھر واشنگٹن استوائی گنی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ چین کی پیش کو مسترد کر دے۔ امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر جون وائنر نے اس سلسلے میں اکتوبر میں استوائی گنی کا دورہ بھی کیا تھا۔

امریکی ذمے داران نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ چین استوائی گنی کے اقتصادی دارالحکومت باٹا پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ اس میں عملی طور پر خلیجِ گنی کے گہرے پانی میں چین کی ایک تجارتی بندرگاہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں گیبون شہر کو وسطی افریقا سے ملانے والی ایک بڑی شاہراہ بھی اس کا حصہ ہے۔

افریقا میں امریکی عسکری کمان کی قیادت AFRICOM کے کمانڈر جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ نے رواں سال اپریل میں سینیٹ کے سامنے گواہ کے طور پر بیان میں کہا تھا کہ چین کی جانب سے سب سے بڑا خطرہ افریقا میں بحر اوقیانوس کے ساحل پر عسکری طور پر مفید ایک بحری تنصیب ہے۔

یاد رہے کہ چین نے اپنا پہلا بیرونی فوجی اڈا 2017ء میں جیبوتی میں قائم کیا تھا۔

چین کی ریاستی کمپنیوں نے گذشتہ دو دہائیوں میں افریقا کے گرد 100 تجارتی بندرگاہیں بنائیں۔ یہ بات چین کے سرکاری اعداد و شمار میں بتائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں