کیا امریکی وزیر دفاع کو افغانستان سے انخلا پر ندامت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ افغانستان سے امریکی انخلاء کو کئی ماہ گزر چکے ہیں مگریہ اقدام اب بھی تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہے جس میں انہیں ایک ٹی وی انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آیا انہیں افغنستان سے انخلا پر ندامت ہے؟۔

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں چند سکینڈ خاموش رہا مگر وہ چند سیکنڈ ایک زمانہ لگ رہے تھے۔ اخلا کے عمل میں ہم نے 13 بہترین فوجیوں کے کھو جانے پر واقعی افسوس ہے۔ سوال کا جواب دیتے وقت ان کے چہرے پر اداسی نمایاں تھی۔

انہوں نے کیلیفورنیا میں ریگن نیشنل ڈیفنس فورم میں انٹرویو کے دوران ایک غلطی سے کابل میں ہونے والے حملے میں 10 شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا، جس نے اس وقت زبردست ہلچل مچا دی تھی۔

اںخلا کے عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسٹن نے اس معاملے کو حل کرنے کی کوششوں میں فوج کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے 17 دنوں کے اندر افغانستان سے 124,000 افراد کو نکالا ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

"انتشار پسندی"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ فورم میں خارجہ پالیسی کے ماہرین اور امریکی قانون سازوں کے افغانستان سے انخلاء کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن کی حکمت عملی پرشدید تنقید کی تھی۔ انخلا کے عمل کے نتیجے میں عالمی سطح پر امریکا کی پوزیشن کو کمزور قرار دیا تھا۔

غنی بھاگ گئے اور حکومت گر گئی۔

قابل ذکر ہے کہ اگست کے وسط میں افغان حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ طالبان تحریک نے ملک بھر میں تیزی سے پیش قدمی کی اور دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئی جس کے بعد صدر اشرف غنی فرار ہوگئے تھے۔

طالبان کے دارالحکومت میں داخل ہونے اور ملک کے تقریباً 80 فیصد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد امریکا میں ریپبلکنز نے بائیڈن انتظامیہ کو افراتفری کے انخلاء پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ افراتفری کے باعث سابق صدر اشرف غنی ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر اسے بیرون ملک چلے گئے۔ فرار کے عمل میں بہت سے حکومتی عہدیدار بھی شامل تھے جو افغان عوام کو طالبان کے رحم ورکرم پر چھوڑ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں