30 فی صد سوڈانیوں کواگلے سال انسانی امدادکی ضرورت ہوگی:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے سوموار کو اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ سوڈان کی 30 فی صد آبادی کو اگلے سال انسانی امداد کی ضرورت ہوگی اور یہ شرح گذشتہ ایک عشرے میں سب سے زیادہ ہے۔

اس نے سوڈان کے معاشی بحران اور کووِڈ کی وبا، سیلاب اور بیماریوں کو اس صورت حال کا ذمے دار قراردیا ہے۔ایک اورحقیقت یہ ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک سوڈان اس وقت لاکھوں پناہ گزینوں اور اندرونی طور پر بے گھر افراد(آئی ڈی پیز)کی میزبانی بھی کررہاہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ سوڈان کی کل چارکروڑ 79 لاکھ آبادی میں سے ایک کروڑ43 لاکھ افراد کو اگلے سال انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔ان میں شہری اور پناہ گزین دونوں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے مقابلے میں یہ تعداد قریباً آٹھ لاکھ زیادہ ہے اور 2022ء میں سوڈان میں ضرورت مند افراد کی تعداد گذشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہوگی۔اس مفلوک الحال آبادی میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

سوڈان میں کئی دہائیوں کے تنازعات کے بعد قریباً تیس لاکھ افراداندرون ملک دربدرہیں اور پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں مغربی علاقے دارفر میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد بھی شامل ہیں جہاں اقوام متحدہ کے مطابق 2003 سے شروع ہونے والی لڑائی میں تین لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ملک میں قریباً 12 لاکھ پناہ گزین یا سیاسی پناہ کی تلاش میں لوگ بھی موجود ہیں۔ان میں سے 68 فی صد کا تعلق جنوبی سوڈان سے ہے جو2011ء میں ایک ریفرینڈم کے نتیجے میں سوڈان سے الگ خودمختار ملک بن گیا تھا۔

سوڈان اس وقت سیاسی عدم استحکام اور ہنگامہ آرائی سے دوچارہے۔اپریل 2019 میں سابق صدرعمرالبشیر کی معزولی کے بعد سے ملک میں ابتری کا دور دورہ ہے اور ملک میں بڑے شہروں میں فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے 25 اکتوبرکواقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو حراست میں لے لیا تھا لیکن اس اقدام کی بین الاقوامی مذمت اور بڑے پیمانے پراحتجاجی مظاہروں کے بعد 21 نومبر کوایک معاہدے کے تحت انھوں نے وزیراعظم کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔

سوڈان کو حال ہی میں افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور اس نے سخت معاشی اصلاحات کا آغازکیا ہے۔ان کے تحت پٹرول اور ڈیزل پرسبسڈی ختم کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں