امریکا سمیت دنیا طالبان کو تسلیم نہ کرے:واشنگٹن میں سینیرافغان سفارت کارکی اپیل

ہمیں طالبان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات بحال رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں،ہم انھیں نہیں پہچانتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

واشنگٹن میں کابل کی سابق حکومت کی نمائندگی کرنے والے آخری سفارت کاروں میں سے ایک نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہ کرے۔انھوں نے بنیاد پرست گروہ کی جانب سے خواتین کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔

معزول صدراشرف غنی کے ملک سے فرار کے بعد ان کی قیادت میں افغان حکومت 15 اگست کوختم ہوگئی تھی اور افغان سیکورٹی فورسزطالبان کو کابل میں اقتدار سنبھالنے سے روکنے میں ناکام رہی تھیں۔

واشنگٹن میں افغانستان کے ڈپٹی چیف آف مشن عبدالہادی نجرابی نے العربیہ انگلش کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایاکہ امریکا میں افغان سفارت خانہ میں متعیّن سفارت کار طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اورانھوں نے گروپ کی ابلاغی روابط بحال کرنے کی تمام کوششوں کومسترد کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم یقینی طور پر کابل اور طالبان کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں۔ ہمیں طالبان کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات بحال رکھنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم انھیں نہیں پہچانتے‘‘۔

نجرابی نے واشنگٹن میں قریب قریب خالی سفارت خانہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی’’نام نہاد قائم مقام کابینہ‘‘کے ارکان کی طرف اشارہ کیا جس میں امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے متعدد افراد شامل ہیں۔ان میں سے بیشتر پر پابندیاں ہیں مگراب وہ طالبان حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائزہیں۔طالبان پرانسداد دہشت گردی کے تحت پابندیاں کی وجہ سے ان کے ساتھ کسی بھی فرد یا ادارے کا مالی لین دین غیرقانونی ہے۔

نجرابی نے کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد قائم مقام وزیرخارجہ ملّا امیرخان متقی کے ساتھ زوم پر رابطے کی دعوت مسترد کردی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو طالبان حکام کی جانب سے ای میلز موصول ہوتی رہتی ہیں اور وہ ہم سے رابطہ قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں اس گروپ کی اقوام متحدہ میں افغانستان کی نشست پر قبضے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی ہے۔یہ ان کی دوسری کوشش تھی لیکن اقوام متحدہ نے اس فیصلے کومؤخر کردیا اور سفارت کاروں نے کہا ہے کہ اس معاملے پر ایک اور رائے شماری 2022 کی جنرل اسمبلی تک نہیں ہو سکتی۔

جہاں تک امریکا کا تعلق ہے، نجرابی نے کہا کہ ان کے خیال میں واشنگٹن کی جانب سے طالبان کو تسلیم کرنے کا کوئی امکان ہے۔انھوں نے خواتین کے حقوق، تعلیم تک رسائی اور تباہ شدہ افغان سیکورٹی فورسز کے سابق ارکان کے پیچھے نہ پڑنے کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں توقع نہیں کہ امریکی حکومت بہت جلد طالبان کو تسلیم کر لے گی کیونکہ امریکی حکومت اور عالمی برادری کے پاس تسلیم کرنے کی شرائط ہیں۔

طالبان کی جانب سے اسلام اور شریعت کے بارے میں اپنا طرزعمل تبدیل کرنے کے عزم کے باوجود نجرابی نے کہا کہ اس کے ثبوت میں تو وہ کچھ بھی پیش نہیں کررہے ہیں اور ان کے عملی اقدامات اس دعوے سے مختلف ہیں۔

اسی اختتام ہفتہ پرہیومن رائٹس واچ اور دیگر تنظیموں نے افغان سیکورٹی فورسز کے سابق ارکان کی سمری ٹرائل کے بعد ہلاکتوں اورگمشدگیوں کی رپورٹس کو دستاویزی شکل دینے کی اطلاع دی ہے۔اس پرامریکااور دیگرمغربی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

طالبان نے گذشتہ ماہ میں ٹیلی ویژن چینلزکو اداکاراؤں کے ساتھ شوزبند کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ خواتین ٹی وی صحافی آن ایئر رہتے ہوئے حجاب پہنیں۔

نجرابی کا کہنا تھا کہ طالبان ذمہ دار لوگ نہیں اور ان کے اقدامات ان کے اقوال سے مختلف ہیں۔وہ میڈیا میں جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں، وہ اس سے بہت مختلف ہے جو کچھ وہ افغانستان میں عملاًکررہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان، چین یا روس کے سفارت کاران کے یا دیگر سفارت کاروں کے پاس اس بنیاد کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچے ہیں کہ طالبان کوافغان حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے تو وہ اپنے خیالات کے بارے میں واضح تھے۔ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک عالمی برادری کو طالبان کی نئی حکومت تسلیم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کررہےہیں مگر انھوں نے سابق حکومت کے سفارت کاروں سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

البتہ نجرابی کے بہ قول یہ ممالک طالبان کی وکالت کر رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا الزام پاکستان اور اس کے سراغرساں ادارے پرعاید کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں کہ طالبان پاکستان کی پراکسی ہیں‘‘۔انھوں نے طالبان کی حمایت پر قطر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔گذشتہ ماہ امریکا اور دوحہ کے درمیان معاہدے کے بعد قطرافغانستان میں واشنگٹن کی سفارتی نمائندگی کرے گا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ واشنگٹن میں افغان سفارت کار حکومت کے بغیرکیا کر سکتے ہیں اور ان کے پاس کتنا وقت ہے؟انھوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کو قونصلر خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔انھیں قونصلر خدمات اور بہت سی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ امیگریشن حکام (امریکا میں) کے پاس اپنا کیس فائل کرسکیں۔

واضح رہے کہ سابق صدر اشرف غنی نے اپنی حکومت کے خاتمے سے کچھ عرصہ قبل عادلہ راز کو امریکا میں افغانستان کی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ واشنگٹن پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد کابل طالبان کے قبضے میں آ گیا اور وہ امریکی صدرجو بائیڈن کواپنی اسناد پیش کرنے سے قاصر رہی تھیں۔

نجرابی نے کہا کہ انہیں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے تن خواہیں ادا نہیں کی گئی ہے۔ان کےپاس کوئی بجٹ اور کوئی حکومت واپس رپورٹ کرنے کے لیے نہیں۔باقی سفارت کار مفت میں کام کررہے ہیں۔بات یہ ہے، یہ بجٹ کے بارے میں نہیں اور میرے پاس اپنے سفارت کاروں کو رقم ادا کرنے کے لیے کوئی مالی وسائل نہیں ہیں۔ چناں چہ ہم یہاں ان لوگوں کی خدمت کے لیے آئے ہیں جو واقعی قونصلر خدمات کی حمایت میں ہیں جو بحالی کے لیے بہت اہم ہیں۔

ان کے اندازے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکم پر افغانستان سے امریکیوں کے افراتفری کے عالم میں انخلا کے بعد سے اب تک 85 ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین امریکا آ چکے ہیں۔امریکی حکام نے کوئی ایسا پیغام نہیں دیا ہے جس سے نجرابی اور ان کے ساتھیوں کو سفارت خانہ خالی کرنے پر مجبور کیا جائے۔لیکن جیسے جیسے مالی صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے، یہ واضح نہیں کہ وہ کب تک سفارت خانے کے دروازے کھلے رکھ سکیں گے۔

غنی غدار

افغانستان سے فرار ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات میں نمودار ہونے والے سابق صدراشرف غنی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نجرابی نے کہا کہ کابل کے زوال کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

تاہم انھوں نے امریکا نواز سابق صدر اشرف غنی کو افغان عوام کا غدار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ساتھ بھی اگر کوئی رابطہ ہوتا ہے تو ان سے طالبان کی طرح کا سلوک کیا جائے گا۔

نجرابی کا بائیڈن انتظامیہ اورعالمی برادری کے لیے آخری پیغام یہ تھا کہ ’’وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں کیونکہ وہ ایک دہشت گرد گروہ ہیں۔ وہ افغان عوام کے نمائندے نہیں ہیں۔آپ کسی دہشت گرد گروہ پر کیسے بھروساکرسکتے ہیں کہ اسے کسی ملک کی جائزحکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے؟‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں