امریکا کا بیجنگ اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کے سیاست دان بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپک مقابلوں کے سفارتی بائیکاٹ کے بیانات دینا بند کریں تاکہ دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ چین کے بقول، اگر امریکا نے ایسا کیا تو بیجنگ کی جانب سے، اگر ضروری ہوا تو، جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اس ہفتے اعلان کر سکتی ہے کہ امریکی حکومتی عہدیدار بیجنگ میں سال2022 کے سرمائی مقابلوں میں شرکت نہیں کریں گے۔ سی این این اور این بی سی ٹیلی وژن نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔

اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا مطلب یہ ہے کہ امریکی عہدیدار اس ایونٹ میں شریک نہیں ہوں گے، جب کہ امریکا کی جانب سے اتھلیٹس کی ٹیم کو اولمپک مقابلوں میں شرکت کی اجازت ہو گی۔

رواں برس ٹوکیو میں منعقد ہونے والے اولمپکس کے دوران زیادہ تر خالی اسٹیڈیم دیکھنے میں آئے تھے البتہ بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کے دوران چین سے تعلق رکھنے والے تماشائیوں کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

اس طرح ایک مرتبہ پھر 1980 والی صورت حال پیدا نہیں ہو گی جب صدر جمی کارٹر نے افغانستان پر سوویت یونین کے 1979 کے حملے کی وجہ سے امریکی ایتھلیٹس کو ماسکو میں ہونے والے گرمائی کھیلوں میں جانے سے روک دیا تھا۔

چین میں سرمائی مقابلوں میں امریکا کے ممکنہ سفارتی بائیکاٹ کی خبر سب سے پہلے سی این این نے دی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاو لی جیان نے کہا ہے کہ بائیکاٹ کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جانا چاہیے اور اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ چین اور امریکا کے درمیان اہم شعبوں میں تعاون اور ڈائیلاگ متاثر نہ ہوں۔ تاہم، انہوں نے باور کرایا کہ اگر امریکا سوچ سمجھ کر ایسا کرتا ہے تو چین بھی ضرور جوابی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے یہ بات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

امریکا کے صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ چین کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ، جیسا کہ چین کے اندر مسلمان اقلیتوں کی نسل کشی ہو ریی ہے، کو سامنے رکھتے ہوئے اولمپک مقابلوں کے سفارتی بائیکاٹ کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ پر مقابلوں میں عدم شرکت کے لیے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور اراکین کانگریس کی جانب سے دباؤ ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

صورت حال سے واقف چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر اس بارے میں اتفاق بڑھ رہا ہے کہ بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ امریکا کے محکمہ خارجہ نے اتوار کے روز اس بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں