بھارت کے دفاعی سربراہ جنرل بپن راوت ہیلی کاپٹرحادثے میں اہلیہ سمیت ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت جنوبی ریاست تامل ناڈو میں بدھ کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے ہلاک ہوگئے ہیں۔اس حادثے میں ان کی اہلیہ سمیت بارہ دیگرافراد بھی مارے گئے ہیں۔

جنرل راوت کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ تامل ناڈو کے ضلع نیلاگیری میں پیش آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بدھ کی دوپہر12:20 بجے کے قریب ضلع نیلاگیری کے جنگلات والے علاقے میں ان کے زیراستعمال بھارتی فضائیہ کا ایم آئی-17وی 5 ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہو گیا۔ وہ سلورمیں بھارتی فضائیہ کے اسٹیشن سے نیلاگیری میں واقع کونورمیں ڈیفنس سروسز ویلنگٹن اسٹاف کالج کی طرف جا رہے تھے۔

ایک سرکاری اعلامیے میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ مادھولیکاراوت اور ہیلی کاپٹر میں سوار 11دیگر افراد کی اس بدقسمت حادثے میں ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔بھارتی فضائیہ نے ان کی ناگہانی موت کو ایک تاریخی قومی نقصان قرار دیا ہے۔

ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں جمعرات کی شام تک دارالحکومت نئی دہلی میں پہنچنے کی توقع ہے۔ بھارتی فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

63 سالہ جنرل راوت بھارتی فوج کے سب سے سینیرعہدہ دار اور پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے2019ء میں یہ عہدہ تخلیق کیا تھا۔ وہ وزارت دفاع کے مشیر بھی تھے اور مسلح افواج کی جنگی صلاحیتوں میں ہم آہنگی اور فوجی سرگرمیوں میں انضمام کے ذمے دار تھے۔جنرل بپن راوت اس سے قبل بھارت کے چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔

ضلع نیلاگیری کے ایک سینیرسول منتظم ایس پی امریت نے بتایا کہ ریسکیو اہلکارایک مرد مسافر کو زخمی حالت میں بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اس کوعلاج کے لیے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔امریت نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں کل چودہ افراد سوار تھے۔ان میں عملہ کے چارارکان اور نو فوجی افسر یا اہلکار تھے۔

بھارتی فضائیہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں زخمی گروپ کیپٹن ورون سنگھ اس وقت ولنگٹن میں واقع فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے پرسار بھارتی نے بتایا کہ ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر فضائیہ کے اڈے سے آرمی ڈیفنس سروسز کالج جارہا تھا کہ تامل ناڈو کے ایک پہاڑی اسٹیشن کونور شہرکے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔فوری طور پرحادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

حادثے کی جگہ سے ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی لوگ آگ بجھانے اور ملبے سے لاشیں ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہاں سے دھویں کے جھونکے نکل رہے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ حادثے کی جگہ گہری دھند میں ڈھکی ہوئی تھی اور مبیّنہ طورپر ہیلی کاپٹرکو یہ حادثہ دھند کے سبب کچھ دکھائی نہ دینے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی بعض تصاویر اور ویڈیوز میں ہیلی کاپٹر کو شعلوں میں لپٹے دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر ایک کالج نے نزدیک گھنے جنگل والے علاقے میں گرا پڑا ہے اور آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں