سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے دفاعی سامان کی فروخت کے خلاف امریکی قرارداد ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینیٹ نے منگل کے روز سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے دفاع سامان کی فروخت کو روکنے کی قررارداد کو رد کر دیا۔

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہائوس کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کے دفتر نے سینیٹ میں سعودی عرب کو میزائل فروخت پر پابندی کی قرارداد کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

امریکی وائٹ ہائوس کے بجٹ مینجمنٹ آفس کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے وقت میں سینیٹ کی اس قرارداد سے امریکی صدر کے اتحادیوں کے دفاع میں مدد کے عزم کو نقصان پہنچے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ماہ نومبر میں سعودی عرب کو 650 ملین ڈالر کے عوض 280 جدید ترین فضاء سے فضاء میں نشانہ بنانے والے میزائل اور 596 میزائل ریل لانچرز کی سعودی عرب کو فروخت کی منظوری دی تھی۔

رواں سال کے آغاز سے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرحد پر درجنوں ڈرون حملے کئے ہیں۔ ان حملوں میں بارودی مواد سے بھرے ڈرون طیاروں کے ذریعے سے شہری اور سرکاری املاک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کی ہر ممکن حمایت کریں گے۔

امریکی سینیٹ کے ریپبلکن سینیٹررینڈ پال، ڈیموکریٹک سینیٹر برنی سینڈرز اور ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے ایک مشترکہ قرارداد میں سعودی عرب پر یمن کے فضائی اور بحری محاصرے کا الزام لگاتے ہوئے ریاض کو امریکی اسلحے کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں