ٹرمپ اور نیتن یاھو کی دیرینہ دوستی کے رنگ پھیکے پڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان مضبوط دوستی تلخ دشمنی اور بظاہر عداوت میں بدل گئی ہے۔

ٹرمپ نے ایک سے زیادہ باروائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ایام کے بارے میں کتاب تیار کرنےوالے ایک اسرائیلی صحافی کو انٹرویو کے دوران تصدیق کی کہ اب وہ ان [نیتن یاھو] سے بات نہیں کرتے۔

ایکسیس ویب سائٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ’میں بی بی‘ سے پیار کرتا تھا۔ ان کے لیے بہت کچھ کیا لیکن اس نے بہت بڑی غلطی کی۔

میں نے اس کے لیے بہت کچھ کیا

انہوں نے مزید کہا کہ میں وفاداری کی تعریف کرتا ہوں اور میں نے ان کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن انہوں نے مجھے بدلے میں کچھ نہیں دیا۔

ٹرمپ کے نیتن یاھو پر غصے کی بات کہاں سے شروع ہوئی؟تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا آغاز ایک ویڈیو سے ہوا ہے جس میں نیتن یاہو کو بائیڈن کو مبارکباد دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر نے اس معاملے پر صرف یہ کہتے ہوئے تبصرہ کیا کہ "وہ انتظار کر سکتے تھے، لیکن وہ سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں شامل ہوگئے تھے۔"

ٹرمپ نے سابق اسرائیلی وزیراعظم پر بے وفائی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میں نے نیتن یاہو کی کئی دہائیوں کی امریکی پالیسی کو الٹ کر ان کے انتخابات میں مدد کی۔ انہوں نے مقبوضہ وادی گولان کی پہاڑیوں اور دیگر فلسطینی زمینوں کو اسرائیل کو دینے کا حوالہ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے وہ نہیں کیا جو میں نے ’بی بی‘ کے لیے کیا۔ میں ان سے پیار کرتا تھا اور اب بھی کرتا ہوں، لیکن مجھے وفاداری بھی پسند ہے۔ بی بی خاموش رہ سکتا تھا۔ اس نے بہت بڑی غلطی کی۔

تہنیتی ویڈیوغم و غصے کا باعث

قابل ذکر ہے کہ نیتن یاہو نے جوبائیڈن کو انتخابات میں کامیابی کے 12 گھنٹے بعد کامیابی پر مبارک باد پیش کی تھی۔ اس وقت تک دنیا کے بہت سے رہنما نو منتخب صدر کو تہنیتی پیغامات دے چکے تھے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ جس چیز نے سابق امریکی صدر کو واقعی پریشان کیا وہ ایک ویڈیو کلپ تھا جسے نیتن یاہو نے 20 جنوری کو شائع کیا تھا۔نیتن یاھو نے کہا تھا کہ ان کی اور بائیڈن کی "گہری ذاتی دوستی ہے جو کئی دہائیوں پرانی ہے۔ "

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں