اقوام متحدہ دفتربرائے انسانی حقوق سنکیانگ میں زیادتیوں سے متعلق رپورٹ جلدشائع کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق دفترچین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اپنے جائزے کو حتمی شکل دے رہا ہے جہاں یغورنسل کے مسلمانوں نے الزام عایدکیا ہے کہ انھیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا،ان کے ساتھ نارواسلوک کیا گیااورانھیں ان کی منشا کے منافی جبری کام پر مجبورکیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق مشعل باشلیٹ کے دفتر نے امیدظاہرکی ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں سنکیانگ کی صورت حال سے متعلق رپورٹ شائع کردی جائے گی۔البتہ ان کے علاقے کے مجوزہ دورے کے بارے میں چینی حکام کے ساتھ طویل عرصے سے جاری بات چیت میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کوبرطانیہ میں قائم وکلاء اورانسانی حقوق کے کارکنان پرمشتمل ایک غیرسرکاری ٹریبیونل نے کہا تھا کہ چینی صدر شی جن پنگ ہی بنیادی طورپر سنکیانگ میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور یغوروں اوردیگراقلیتوں کے ارکان پر تشدد کے ذمے دار ہیں۔چین نے اس ٹریبیونل کو،جس کے پاس منظوری یا نفاذ کے اختیارات نہیں ہیں، ایک ’’تماشا‘‘قرار دے کرمستردکردیا ہے۔

ہائی کمشنر کے دفترکے ترجمان روپرٹ کولویل جنیوا میں ہفتے کے روز ایک نیوزبریفنگ میں کہا کہ یغورٹریبیونل مزیدمعلومات سامنے لایا ہے اور یہ سنکیانگ میں یغوروں اوردیگرمسلم نسلی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے انتہائی پریشان کن ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے یقیناً اسی طرح اداروں میں من مانی حراست اور بدسلوکی، جبری مزدوری کے طریقوں اور عمومی طور پر سماجی اور ثقافتی حقوق کی سلبی کے نمونوں کی نشاندہی کی ہے۔

’’ہیرا پھیری‘‘

جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے مشن نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس نے تو کئی مرتبہ باشلیٹ کو’’دوستانہ دورے‘‘کی دعوت دی ہے۔تاہم یہ دورہ کسی بھی طرح جرم کے مفروضے کے تحت نام نہاد ’تحقیقات‘ نہیں بن سکے گا۔

اس نے مزید کہا کہ اگر ان کا دفتر صرف امریکا اور مغرب میں چین مخالف قوتوں کے سیاسی جوڑتوڑ میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس سے اس کی غیرجانبداری سے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔

جون میں مس باشلیٹ نے اس سال دورے کے لیے ٹائم لائن تجویز کی تھی۔ وہ ستمبر2018ء سے اس طرح کے دورے کی شرائط پربات چیت کررہی ہیں، جب پہلی بار یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ قریباً دس لاکھ یغوروں کو اجتماعی طورپرکیمپوں میں زیرحراست رکھا جارہا ہے۔

کولویل نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کوعام کرنے سے پہلے بیجنگ حکومت کے ساتھ شیئر کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے امید ظاہرکی کہ یہ اقدام چند ہفتوں میں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں