افغانستان وطالبان

طالبان کے خلاف لڑنے والی سیکڑوں افغان خواتین کے انجام پر سوالیہ نشان ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ افغان طالبان نے رواں سال اگست میں ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کئی وعدے اور یقین دہانیاں پیش کیں، تاہم اس کے باوجود بہت سے افغانوں بالخصوص سیکورٹی اداروں اور فضائی میں کام کرنے والے اہل کاروں کو تشویش لاحق ہے۔

اپنے انجام کے حوالے سے "خوف کا شکار" ان افراد میں سیکڑوں خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے افغان فوج میں خدمات انجام دیں۔ انہیں کئی برس قبل طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی افواج کے ہاتھوں تربیت فراہم کی گئی تھی۔

افغانستان کی فوج، پولیس اور فضائیہ میں کام کرنے والی 6300 سے زیادہ خواتین کا انجام ابھی تک پراسرار دکھائی دے رہا ہے۔

اس سلسلے میں ایک سابق افغان کرنل اور ہواباز عبدالرحمن رحمانی کا کہنا ہے کہ "گذشتہ 20 برسوں میں امریکا اور نیٹو ممالک کی جانب سے افغانستان میں خواتین کے حقوق اور مساوات و عدل کی مضبوطی دیکھی گئی"۔ امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق رحمانی اس وقت افغانستان کی قومی سلامتی کی کونسل کے دفتر میں صدارتی معلومات کے رابطہ کاری مرکز کے سربراہ ہیں۔

رحمانی کا مزید کہنا ہے کہ "ان کوششوں کے ضمن میں خواتین کو موقع ملا کہ وہ افغان فوج میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیں۔ ان خواتین نے نہ صرف طالبان کے خلاف لڑائی میں شرکت کی بلکہ انہوں نے جمہوریت، مساوات اور انصاف کو بھی مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا"۔

رحمانی کے مطابق عالمی برادری بالخصوص امریکا نے ان خواتین کی حوصلہ افزائی کی اور افغانستان میں تبدیلی کے عمل کا حصہ بننے میں معاونت فراہم کی۔ طالبان کے اقتدار میں واپس آنے پر امریکا کو ان خواتین کے سر سے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے۔

رحمانی نے خیال ظاہر کیا کہ ان خواتین کو انتقامی کارروائیوں اور ممکنہ طور پر قتل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا انہیں امریکا کا ویزا فراہم کر کے افغانستان سے محفوظ طریقے سے نکلنے میں مدد کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ 1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں طالبان کے پہلے دورِ حکومت کے دوران میں طالبان تحریک نے شہریوں بالخصوص خواتین پر سخت گیر احکامات نافذ کر دیے تھے۔ اس عرصے میں لڑکیوں کو اسکول میں پڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔ اسی طرح خواتین کے کام کرنے، سرکاری شعبے یا فوج میں خدمات انجام دینے اور تنہا سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں