پیرس میں خاشقجی کیس پرغلطی سےگرفتارسعودی سے فرانسیسی سکیورٹی نےکیا سلوک کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کےکیس کے سلسلے میں پیرس میں غلط طور پرگرفتار کیے گئے شخص نے فرانسیسی سکیورٹی فورسزکے خود سے نارواسلوک کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے گرفتاری کے وقت ان کی ایک نہیں سنی تھی اور ایک بدبودار عقوبت خانے میں بند کردیا تھا۔

سعودی شہری خالدالعتیبی کوگذشتہ منگل کو پیرس کے چارلس ڈیگال ہوائی اڈے پر فرانسیسی فورسز نے شناخت کی غلطی بنا پرگرفتار کرلیا تھا۔انھوں نے سعودی اخبارعکاظ کو بتایا کہ’’فرانسیسی سکیورٹی فورسز نے مجھے ایک گندے کمرے میں حراست میں رکھا تھا۔اس کی دیواریں خون سے رنگی ہوئی تھیں۔اس میں ،میں نہ تو آرام کرسکتا تھا اورنہ سوسکتا تھا‘‘۔

العتیبی کی گرفتاری کے فوراً بعد پیرس میں سعودی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ غلط شناخت کا معاملہ ہے۔خالدالعتیبی نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں درج شخص کا نام بتایا ہے کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل میں ملوّث تھا اور اس کے شُبے میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے حراست میں لیے جانے کے بعد فرانسیسی حکام سے سعودی سفارت خانے سے رابطہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے بجائے’’میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اسی دوست نے سعودی سفارت خانہ کو میری گرفتاری کے بارے میں مطلع کیا اورپھرمشن نے براہ راست مجھے جواب دیا، کیونکہ اس کے عملہ کے ارکان میری تلاش میں تھے‘‘۔

العتیبی اس دوران میں فرانسیسی حکام سے اپنا موبائل فون واپس لینے میں کامیاب ہوگئے تھےاورانھیں سفارت خانے سے کال موصول ہوئی تھی۔وہ بتاتے ہیں کہ ’’سعودی سفیر اور سفارت خانہ کے دیگرحکام فوری طورپرحراستی مرکز میں آئے تھے۔تاہم سکیورٹی حکام نے انھیں مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی‘‘۔

فرانسیسی سکیورٹی فورسزکے نارواسلوک کے بارے میں بات کرتے ہوئےانھوں نے کہا:’’انھوں نے مجھے بولنے کا کوئی موقع بھی نہیں دیا اوران کے تمام جوابات فرانسیسی زبان میں تھے۔بعد ازاں عربی بولنے والی ایک خاتون وکیل نے مجھے سمجھایا کہ مجھے قتل کے مقدمے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔جب مجھے حراست میں لیا گیا تو سکیورٹی اہلکاراس پر ہنس پڑے اور میرا ٹھٹھا اڑانے لگے تھے‘‘۔

پھر فرانسیسی سکیورٹی فورسز نے العتیبی کو ایک شخص کی تصویر دکھائی تھی اور اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’مجھےاس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے عکاظ کو بتایا کہ’’تصویر میں نظرآنے والاشخص میں نہیں تھا اوراس کا نام بھی مجھ سے مختلف تھا‘‘۔

فرانسیسی استغاثہ نے جانچ پرکھ کے بعد کہا تھا کہ ترکی کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کا اطلاق اس شخص پرنہیں ہوتا۔ اس سے قبل پولیس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ سعودی شہری کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب اس کے پاسپورٹ کے اسکین سے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

پیرس کے پبلک پراسیکیوٹر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ ایک غلط شناخت کا معاملہ تھا۔ترکی کی جانب سے غلط طور پروارنٹ جاری کیے گئے تھے اور ان کا اس سعودی شہری پراطلاق نہیں ہوتاتھا۔اس شخص کے سرحد پرچیکنگ کے وقت سکین کے دوران میں پاسپورٹ کو نشان زد کردیا گیا تھا۔اسی بنا پرخالد العتیبی کو فرانسیسی حکام نے حراست میں لیا تھا۔

واضح رہے کہ پیرس میں سعودی سفارت خانے نے فرانسیسی حکام سے اس شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔اس شخص کو2018ءمیں ترکی کے شہراستنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے واقعے میں ملوث ہونے کے شُبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سفارت خانہ نے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے معاملے میں سعودی شہری کی گرفتاری کے بارے میں میڈیا میں جو کچھ زیرگردش ہے،وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔اس گرفتارشخص کا زیرِبحث معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں