ترکی کی اپنے ہمسایوں کے خلاف جارحیت ترقی میں رکاوٹ ہے:قبرصی وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یونانی قبرص کے وزیرخزانہ قسطنطین پیٹرائیڈز نے کہا ہے کہ ترکی کی اپنے ہمسایوں کے خلاف ’’جارحیت‘‘تمام شعبوں میں آگے بڑھنے کے کسی بھی منصوبے میں ایک رکاوٹ ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوزچینل سے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ترکی اپنے ہمسایوں کے خلاف سختی اور جارحیت کی تصویرکشی کررہا ہے اور اس کا یہ کردار فی الواقع تمام لوگوں کے باہمی مفادمیں ایک رکاوٹ ہے۔

پیٹرائیڈز نےامید ظاہرکی ہے کہ ترکی اپنے ہمسایوں اور خاص طورپرقبرص کے مقابلے میں اپنے جارحانہ مؤقف پر نظرثانی کرے گا تاکہ مشترکہ مفادکوملحوظ رکھا جاسکے۔انھوں نے ترکی پر قبرص کے شمالی حصے پر قبضے کا الزام عاید کیا ہے۔

ترکی شمالی قبرص اوریونانی قبرص کی دو الگ الگ ریاستوں پر زور دے رہا ہے جبکہ قبرصی صدراس کو بحرمتوسط کے مشرق میں واقع جزیرے پر مستقل قبضہ جمانے کی کوشش کے طور پردیکھتے ہیں۔اس وقت شمالی قبرص ترکی کی عمل داری میں ہے۔

قبرص کے شمال میں ترکی کی فوجی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پروزیرخزانہ نے کہا کہ’’یہ قبرص کی ’’مشرقی بحرمتوسط (بحیرہ روم) کا سوئٹزرلینڈ‘‘بننے کی صلاحیت میں بڑی رکاوٹ ہے اور اس صورت میں ترک اور یونانی قبرصوں دونوں کو فائدہ پہنچے گا‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جزیرے سے متعلق ترک عزائم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے میں رکاوٹ ہیں۔ترکی کی وجہ سے قبرص کو جس سیاسی مسئلے کا سامنا ہے،وہ قبرص اور ہمسایوں کے لیے ایک کم زوری ہے۔

وزیرخزانہ نے یہ بھی نشان دہی کی کہ قبرص خلیجی ممالک کے ساتھ خصوصاً توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پرغور کررہا ہے۔اس ضمن میں قبرصی صدرخلیج تعاون کونسل(جی سی سی) کے رکن ممالک کا دو سے زیادہ مرتبہ دورہ کیا اوروہ سال کے آخر میں بھی یہاں آرہے ہیں۔

پیٹرائیڈزنے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کافروغ ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں