جوہری ایران

ایران پر اسرائیلی حملے کا امکان نہیں دیکھ رہے:امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ سے فضائی ایندھن بھرنے والے ٹینکروں کی ترسیل کو تیز کرنے کے لیے کہا ہے جو ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے لیے اہم ہو سکتے ہیں مگرامریکی حکام نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ اسرائیل تہران پرعن قریب حملہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ فوجی کارروائی کے لیے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کی خاطر ایران اور مغرب کے درمیان حتمی معاہدے میں سخت شرائط کے خواہاں ہیں۔

اسرائیلی تشویش

یہ بات اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کےدورہ امریکا کے دوران اس وقت سامنے آئی ہے جب انہوں نے چند روز قبل واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے درخواست کی تھی کہ ایندھن بھرنے والے طیاروں کو جلد تیار کیا جائے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ طیارے 2024 کے آخر تک تیار ہو جائیں گے۔

یہ پیش رفت نئی کشیدگی کے ساتھ سامنے آئی جس نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک ایران کے جوہری مسئلے سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اختلاف رکھتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے حکام کو تشویش ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ فوجی حملے کے خطرے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف سفارت کاری کی ناکامی کے بعد واضح ہو گیا کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہونے کی دہلیز کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

خطیر بجٹ

اسی سیاق و سباق میں اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا کہ بینیٹ نے فضائی حملے کی مشق کرنے کے لیے مشقوں پر بہت زیادہ بجٹ لگایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوئی بھی کوشش ایک ناقص معاہدے کی طرف لے جائے گی جس سے ایران کو بم بنانے کی طرف پیش رفت کرنے کا موقع ملے گا۔

جب کہ فضائی ایندھن بھرنے والے طیاروں کا موجودہ اسرائیلی بیڑا 50 سال سے زیادہ پرانا ہے اور بوئنگ 707 پر انحصار کرتا ہے۔ KC-46 ٹینکرز کا نیا بیڑا اسرائیل کو بہت زیادہ رینج اور صلاحیت فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ لڑاکا طیاروں اور بمبار طیاروں کو فضائی طور پر ایندھن بھر سکتا ہے۔

ایندھن کا بحران

بلاشبہ ایندھن بھرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اسرائیلی طیاروں کو بوڑھے ٹینکروں پر انحصار کرنا پڑے گا یا پڑوسی ممالک میں اترنا پڑے گا جن میں سے کوئی بھی حملے میں مدد کرنے میں شامل نہیں ہونا چاہتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت سے موجودہ اور سابق حکام کے مطابق اسرائیل کو یقین ہے کہ اس حملے کو انجام دینے کے لیے بعض تنصیبات پر کئی بار بمباری کی ضرورت ہو گی۔ خاص طور پر فوردو جوہری پلانٹ جو کہ ایک ایرانی پہاڑ میں گہرائی میں ہے ایندھن کی افزودگی کا مرکز ہے۔ اس میں تھوڑا وقت لگے گا اور اس لیے انہیں ایندھن بھرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں