یواین میں امریکی ایلچی کی یمنی حوثیوں پرکڑی تنقید،زیرحراست عملہ کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ میں امریکا کی ایلچی نے یمن میں جنگ آزما ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان سے صنعاء میں امریکا کے سفارت خانہ کے ملازمین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔حوثی ملیشیا نے ان ملازمین کوپکڑنے کے بعد اپنی حراست میں رکھاہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ اکتوبر میں حوثیوں نے سفارت خانے کے 30 مقامی ملازمین کو حراست میں لیا تھامگراس کے بعد انھیں واشنگٹن کے علاقائی شراکت داروں کی مدد سے رہا کر دیا گیا تھا۔

لیکن چند روزبعد اس گروپ نے مزیدامریکی ملازمین اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے دوسرے افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔تاہم امریکا اوراقوام متحدہ کے زیرحراست ان ملازمین کی صحیح تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لِنڈا تھامس گرین فیلڈ نے منگل کے روز کہا کہ حوثی اب بھی ہمارے مقامی یمنی عملہ کو حراست میں لے رہے ہیں،انھیں ہراساں کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی سفارت خانے کے سابق احاطے میں دراندازی کررہے ہیں۔

انھوں نے یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ میں کہا کہ ’’حوثیوں کو امریکا کے تمام موجودہ اورسابق یمنی ملازمین کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔ وہ امریکی کمپاؤنڈ خالی کردیں،ضبط شدہ تمام املاک واپس کریں اور اپنے ہی ہم وطنوں کوڈرانے،دھمکانے کا سلسلہ بند کردیں‘‘۔

واضح رہے کہ جنوری میں صدرجو بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکا نے حوثیوں کے خلاف نرم رویہ اختیارکیا تھا اور ان پر عاید بعض پابندیاں ختم کردی تھیں لیکن اس ملیشیا گروپ نے برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں بات چیت میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

گرین فیلڈ نے کہا کہ یمن میں انسانی صورت حال اب بھی سنگین ہے۔مسلسل تنازعات کے ساتھ یمن کی معیشت مزید ابترہوجائے گی اوراس کے ساتھ لاکھوں یمنیوں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوگی۔یمنیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار رہیں گی اوران کی نسلوں کو اس جنگ کے داغ برداشت کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حمایت سے یمنی حکومت نے جنگ کے خاتمے اوربحران کے پرامن حل کے لیے متعدد مرتبہ بات چیت پرآمادگی ظاہر کی ہے لیکن حوثی ’’امن کو کمزور‘‘کررہے ہیں۔انھوں نے مقامی ملازمین کو حراست میں لینے کے علاوہ مآرب پراپنی جارحیت روکنے سے بھی انکارکیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس جارحیت سے ہزاروں شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔حوثیوں کو اس جارحیت کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔

گرین فیلڈ نے سعودی عرب کے شہروں کی جانب حوثی ملیشیا کے باربارمیزائل حملوں کی بھی مذمت کی۔حوثیوں نے دیگر حملوں کے علاوہ گذشتہ ہفتے دارالحکومت الریاض کی جانب تین بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

انھوں نے کہا کہ حوثیوں نے رواں سال کے دوران میں اس طرح کے 350 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔یہ تعداد گذشتہ سال کے مجموعی حملوں سے حیران کن حد تک زیادہ ہے۔مریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ ایران کو اس گروپ کی مہلک حمایت بند کرنی چاہیے کیونکہ وہ امن کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ حوثیوں کی اشتعال انگیزیوں، مخالفین کو ہراساں کرنے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف تشدد آزمانے کے پیش نظرمیں انھیں باور کرادینا چاہتی ہوں کہ امریکا یمن کے عوام کی حمایت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں