ترکی اوریواے ای دبئی مذاکرات کے بعد دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی اور متحدہ عرب امارات نے دبئی میں مذاکرات کے بعد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دونوں ممالک نے برسوں کی مخاصمت کی وجہ سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیزکردی ہیں۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو پیر کومتحدہ عرب امارات پہنچے جہاں انھوں نے اماراتی وزیراعظم شیخ محمد بن راشد سے دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور خطے کے تجارتی اور سیاحتی مرکز دبئی میں ترک تاجروں سے ملاقات کی تھی۔

انھوں نے یہ دورہ ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گذشتہ ماہ انقرہ میں مذاکرات میں طے شدہ مختلف معاہدوں پردست خط کے بعد کیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں ’’نئے دور‘‘کا آغاز ہوگا۔

دبئی میڈیا آفس کی اطلاع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے نائب صدر،وزیراعظم اورحاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے مولود شاوش اوغلو سے ملاقات کی۔انھوں نے ’’متحدہ عرب امارات اور ترکی کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے اور مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون کے لیے فریم ورک تیار کرنے پرتبادلہ خیال کیا ہے‘‘۔

منگل کوشاوش اوغلو نے دبئی میں ترک تاجروں سے ملاقات کی تھی۔اس موقع پرانھوں نے کہا کہ’’تاجر برادری کامتحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں بڑا کردارہے‘‘۔انھوں نے شیخ محمد سے ملاقات کے بعد کہا کہ ترکی اور یواے ای اپنے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔

واضح رہے کہ 2011ءمیں عرب بہاریہ تحریکوں کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں بنیاد پرست گروہوں کے کردار پر ترکی اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے اورلیبیا کے تنازع میں بھی دونوں ممالک مخالف فریق تھے۔

انقرہ نے اس سے قبل متحدہ عرب امارات پر2016ء میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی مالی معاونت اور یمن میں فوجی مداخلت سے خطے میں افراتفری پھیلانے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ ابوظبی نے خطے میں ترکی کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی تھی۔

ترکی گذشتہ سال شروع کی گئی ’’خوش نما‘‘سفارتی مہم کے حصے کے طور پر مصر اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات کررہا ہے لیکن ان مذاکرات سے عوامی سطح پربہت کم بہتری آئی ہے۔ابوظبی نےعلاقائی تنازعات کو کم کرنے اورمعیشت پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنے پربھی زوردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں