یمن اور حوثی

سعودی عرب،امارات،برطانیہ،امریکا کی یمن میں انسانی صورتحال کی سنگینی پرتنبیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا نے یمن میں انسانی صورتحال پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں جنگ زدہ ملک میں انسانی صورت حال کی سنگینی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکا کے ناظم الامور کے یمن کے لیے تسلیم شدہ سفیروں نے 14 دسمبر 2021 کو ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے یمن کی موجودہ انسانی صورت حال کی سنگینی کو ملک میں جاری جنگ اور حوثی ملیشیا کی جنگ بندی کی مساعی میں عدم دلچسپی کا نتیجہ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حوثیوں کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کی کوششوں کو مسترد کیے جانے اور جنگ جاری رکھنے کے باعث یمن میں انسانی بحران مزید شدید ہو رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کوارٹیٹ ممالک کے سفیروں نے یمن کے مرکزی بینک کے گورنر، ایک ڈپٹی گورنر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اضافی ممبران کی تقرری اور کنٹرول اور احتساب اتھارٹی کی تفویض کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یمن کی صورتحال میں معیشت کی اہمیت کے پیش نظر اس بات کو مدنظر رکھا گیا کہ مرکزی بینک اور مالیاتی اداروں کی مضبوط قیادت انتہائی اہم ہے اور اس شعبے میں ان اہل افراد کی تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ بنک کے عملے کی تعیناتی ایک مثبت قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوارٹیٹ سفیروں نے غیر ملکی کرنسی کی فروخت کی نیلامی کے لیے نئے عمل کی کامیاب تعریف کا بھی خیر مقدم کیا۔

سفیروں نے یمنی وزیر اعظم اور ان کی حکومت، مرکزی بینک کے نئے گورنر اور ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

بیان میں سفیروں نے ملکی محصولات کے استعمال اور بیرونی فنانسنگ کے انتظام میں شفافیت اور ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکومت سے اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں